حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 341 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 341

حیات بقاپوری 341 تانا بانا تو ڑ آتے۔پھر اگر وہ تہجد گزار ہزاری مل صاحب کے گاؤں پر اثر ڈال آتے۔تو یہ جا کر انہیں منفر بنا آتے۔آخر دسمبر ۱۹۲۳ء کو اس جنگ میں سنجوگی قوم سے آریہ قوم کو مایوسی ہوئی اور بفضل تعالیٰ ارتداد کی آگ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا اور توجہ سے اور مولا نا بقا پوری کی جدو جہد اور رات کے آنسوؤں سے سرد ہوئی۔مولانا بقا پوری صاحب کو دوسرے سال ۱۹۲۴ء میں علماء و فقراء اور امراء تینوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔مباحثات شروع ہو گئے۔مولانا صاحب تنہا ہوتے اور مقابل پر غیر احمدی علماء بعض اوقات درجن تک ہوتے۔مگر ہمیشہ بفضل تعالیٰ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کی برکت سے آپ کو غلبہ ہوتا۔جس سے جماعت احمدیہ میں لوگ داخل ہونے لگے۔مباحثات کا بھی عجیب طرز تھا۔جتنا بھی کوئی وقت لیتا آپ اُسے دیتے۔اور جو سوال ہوتا چاہے کیسا ہی غیر متعلق ہوتا ہمیشہ تحقیقی جواب دیتے اور کوشش فرماتے کہ لوگ حقیقت سمجھ لیں۔خواہ کس قدر ہی کوئی کمینہ حملہ کرتا آپ تحمل سے کام لیتے۔صوبہ سندھ کے مسلمان بھی اہل ہنود کی اتباع میں پنجابیوں سے بہت عداوت رکھتے ہیں۔سندھ میں مثل ہے سپ ٹار پنجابی مار یعنی سانپ کو چھوڑو پنجابی کو مارو۔ایسی حالت میں مولوی صاحب کو بہت سے مشکلات کا سامنا ہوا۔آریہ لوگ دشمن ہو گئے اور مسلمانوں کے علماء وفقراء بھی دشمن ہو گئے۔اور وطنی نفرت اس کے علاوہ تھی۔اس لیے ہر ایک جائز و نا جائز حرکت سے حائل تبلیغ سلسلہ حقہ ہوئے۔بعض جگہوں پر تو کلہاڑیوں کو تیز کر کے قتل پر بھی آمادہ ہوئے۔اور گالی گلوچ کا بازار تو قریباً ہر جگہ گرم رہتا۔مگر مولوی صاحب نے نہ کبھی گالیوں کا جواب دیا اور نہ رنج کیا۔بلکہ رات کو بوقت سحری انکے حق میں دعائیں کرتے۔آپ نے بعض اہل قلم احباب کو سندھ میں لکھنے کی اور بعض ذی ثروت احباب کو اپنے خرچ پر سندھی طالب علموں کو دارالامان بھیجنے کی ترغیب دی۔جس پر بعض نے ٹریکٹ سندھی زبان میں لکھ کر شائع کئے اور بعض سندھی طالب علم دار الامان بھیجے گئے۔۱۹۳۶ء میں عسر کی حالت دور ہوئی کیونکہ سندھ میں بعض جگہ جماعتیں قائم ہوگئیں اور لوگ باتیں سننے لگے۔علماء پر خاص طور سے رعب پڑا۔بلکہ مولوی بقا پوری صاحب کا نام لیکر کہتے کہ ہم اُن سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس سے بھی سعید روحیں متوجہ ہوئیں اور اکثر افراد داخل سلسلہ ہوئے۔_Y سندھ میں پیدل سفر کرنا نہایت ہی حقارت سے دیکھا جاتا ہے مثل مشہور ہے۔پنڈے کھاں وات کئے جی چگو۔یعنی پیدل سفر سے کتے کے منہ میں پڑنا اچھا ہے۔مگر مولانا بقا پوری صاحب کی سادگی ہمحنت و جانفشانی کا یہ