حیاتِ بقاپوری — Page 335
حیات بقاپوری 335 حضرت خلیفة الحج الثانی اید اللہ بنصر والعزیز کا ارشاد گرامی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا۔جبکہ ان کی کوئی مددنہ کی جاتی تھی۔اور اس کام کی وجہ سے ان کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتا دیا۔کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر ان کی آخری زندگی میں گزارے دئے جائیں تو اس سے ان کی خدمات حقیر نہیں ہو جاتیں۔بلکہ گزارے کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ جس قدر ان کی امداد کرنی چاہئیے۔اتنی ہم نہیں کر رہے“ رپورٹ مجلس مشاورت صد ۲۴ (۱۹۳۶ء) ۲۷ دسمبر ۱۹۵۴ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضور نے دوران سال میں شائع ہونے والے نئے لٹریچر کی اشاعت کی طرف دوستوں کو توجہ دلاتے ہوئے حیات بقا پوری کا بھی ذکر کیا اور فرمایا۔دوسری کتاب حیات بقا پوری ہے۔اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض فتاویٰ بھی جمع کئے ہیں۔نہ معلوم وہ ہیں جن میں وہ بھی اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔یا ان کو پسند تھے۔کہ انہوں نے لکھ لئے لیکن اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض خیالات اور آپ کے افکار بعض مسائل کے متعلق نہایت اعلیٰ درجہ کے لکھے گئے ہیں۔بلکہ ایک حوالہ تو ایسا ہے جس کی ہم کو تلاش رہی۔اور پہلے ہم کو نہیں ملا۔اس میں ہمیں مل گیا۔یہ بھی اچھی دلچسپ کتاب ہے" (الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۵۵ء)