حیاتِ بقاپوری — Page 30
حیات بقاپوری 30 یہ کلمات طیبات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وقت فرمائے جبکہ ظہر کی نماز پڑھ کر آپ حرم سرائے میں تشریف لے جانے لگے تھے۔تو میں نے کہا تھا کہ حضور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے اور میرا لب ولہجہ کچھ ایسا تھا کہ حضور میرے پاس آکر کھڑے ہوئے اور حضور نے یہ کلمات اس محبت اور خوشی سے بیان فرمائے کہ سننے والے بھی بہت محفوظ ہوئے اور مجھے کہنے لگے کہ تمہارے ذریعہ سے ہم نے ایسے عالی قدر حقائق اور معارف سُن لیے ہیں اور ریاضت اور مجاہدہ کا طریقہ اور اس کے فوائد سے ہم کو حقیقی آگاہی حاصل ہوگئی ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص بہت خوش قسمت ہے کہ اس نے اپنی تمام بیماریاں ڈاکٹر کے سامنے رکھ دی ہیں۔اب اس کا علاج ہو جائے گا۔یہ زریں ہدایات حضور نے کوئی پون گھنٹہ کے قریب بیان فرمائی ہوں گی۔الحمد للہ اولاً وآخراً حضور اقدس کی ان نصائح کا مجھے پر اتنا اثر ہوا کہ جب میں بقا پور واپس لوٹا تو میرے دل نے بہت قلق اور افسوس محسوس کیا کہ میں ۱۸۹ء سے اب تک حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا ہوں لیکن بیعت سے محروم رہا۔اب اس کمی کی تلافی کے لیے جدو جہد کرنی چاہیے۔پس اس کے بعد میں نے حضور کے ارشادات کے مطابق ریاضت اور مجاہدات کی جد و جہد شروع کر دی۔میں ساری ساری رات باہر جنگل میں نمازیں پڑھتا حتی کہ گیارہ رکعت (آٹھ نفل تین وتر) میں ساری رات گذر جاتی اور تجبل ائی اللہ کی کوشش کرتا۔رمضان میں ایسا ہوتا کہ میں عشاء کی نماز پڑھا کر گھر آتا اور اس کے بعد نوافل کے لیے کھڑا ہوتا یہاں تک سحری کا وقت ہو جاتا۔تب میں اپنی بیوی کو جگاتا کہ میرے لیے کھانا پکائے۔اس کے کھانا پکاتے پکاتے میں تین وتر پڑھ لیتا۔اس وقت میرے عمر انتالیس سال کی تھی اور عین جوانی کا عالم تھا۔اس طرح کی ریاضت اور مجاہدہ پر چند ماہ ہی گذرے ہوں گے کہ میں نے رویاء میں دیکھا کہ میں ایک بالا خانہ پر چڑھا ہوں میں نے وہاں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے مبارک جانب مشرق ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کے سامنے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ قدرے گندم گوں سرخی مائل تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گندم گوں تھا۔دونوں مبارک چہروں سے نورانی شعاعیں نکل رہی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ مبارک سے زیادہ تیز شعاعیں نکل رہی تھیں۔میں قرآن مجید لے کر حاضر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن مجید پر انگلی رکھ کر عرض کیا کہ حضور اس کا کیا مطلب ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے