حیاتِ بقاپوری — Page 25
حیات بقاپوری 25 حضرت اقدس: قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے جیسا کہ فرمایا الابذکر الله تمكن القلوب (۲۹:۱۳)۔پس جہاں تک ممکن ہوذ کر الہی کرتار ہے اس سے اطمینان حاصل ہوگا۔ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔دیکھو ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کس صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اس نے دانے ضائع کر دئے لیکن ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ وہ اُن بکھیرے ہوئے دانوں سے خرمن جمع کرتا ہے۔اسی طرح مومن جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر کے استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اُسے وہ ذوق وشوق اور معرفت عطا کرتا ہے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔یہ بڑی غلطی ہے کہ لوگ کوشش اور سعی تو کرتے نہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ ہمیں ذوق و شوق اور معرفت اور اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے۔جبکہ دینی اور سفلی امور کے لیے محنت اور صبر کی ضرورت ہے تو پھر خدائے تعالیٰ کو پھونک مار کر کیسے پا سکتا ہے۔دنیا کے مصائب اور مشکلات سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔اس راہ میں مشکلات کا آنا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب کا سلسلہ دیکھو کس قدر لمبا تھا۔تیرہ سال مخالفوں سے دُکھ اٹھاتے رہے۔مکہ والوں کے دُکھ اٹھاتے اٹھاتے طائف چلے گئے تو وہاں سے بھی پتھر ہی کھائے پھر اور کون شخص ہے جو ان مصائب کے سلسلہ سے الگ ہو کر خداشناسی کی منزل کو طے کرے۔جولوگ چاہتے ہیں ہمیں محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے وہ بیہودہ خیال کرتے ہیں۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صاف فرمایا ہے: وَالَّذِ مَن جَاهَدُ فِي العَهْدِ تنظم سُلُنَا (۷۰:۲۹) اس سے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کے لیے مجاہدہ کی ضرورت ہے اور وہ مجاہدہ اس طریق پر ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس کے لیے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اور اُسوہ حسنہ موجود ہے۔اکثر لوگ حضور کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر سبز پوش یا گیر وئے کپڑے پہننے والے فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ وہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں۔یہ بیہودہ بات ہے ایسے لوگ شرعی امور کی پابندی نہیں کرتے اور پھر بیہودہ دعوی کرتے ہیں۔وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں۔کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ مشت خاک ہونے کے باوجود خود ہدایت دینے کے مدعی بنتے ہیں۔اصلی راہ اور گر خداشناسی کا دعا ہے اور پھر صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگے رہنا۔ایک پنجابی کا