حیاتِ بقاپوری — Page 24
حیات بقاپوری 24 کرتے ہیں گویا آپ کی عمر اسی سال کی ہو گئی ہے۔حالانکہ ابھی آپ کے ہاں کئی بچے ہو سکتے ہیں۔حضور نے یہ ارشاد ایسے وثوق سے فرمایا کہ مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور نرینہ اولا د عطا کرے گا۔یہ ۱۹۰۵ ء کی بات ہے۔اس کے بعد ۱۹۰۸ ء میں میری پہلی بیوی فوت ہوگئی اور اللہ تعالٰی نے دوسری بیوی سے تین لڑکیاں اور تین لڑکے بخشے۔جن میں سے سب سے بڑی لڑکی مبارکہ مرحومہ تھی اور دولڑکیاں اور تین لڑکے ماشاء اللہ اس وقت زندہ موجود ہیں۔اعنی (۱) امتہ الحفیظ بیگم۔اس کے تین بچے ہیں ایک لڑکا اور دولڑکیاں (۲) محمد اسمعیل اس کے تین لڑکے اور دولڑ کیاں ہیں (۳) ڈاکٹر میجر محمد اسحاق اس کے تین لڑکے ہیں (۴) مبارکہ ثانیہ جس کے دولڑ کے اور دولڑکیاں ہیں (۵) مبارک احمد میری یہ سب اولا د اور اولاد در اولاد اس وقت زندہ موجود ہے اور مستقبل کا اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ مجھے اور کس قدر اپنی اولا در اولا د اپنی زندگی میں دیکھنا مقدر ہے۔چونکہ میری اولاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے بشارت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے بخشی سو الحمد للہ کہ اپنی مقدرت کے مطابق سب سلسلہ کے خادم، نیک اور والدین کے اطاعت گزار ہیں۔چنانچہ محمد اسماعیل اور محمد اسحاق جہاں جہاں ملازمت کے سلسلہ میں رہے وہاں سے اُن کی خدمات سلسلہ کی رپورٹیں مجھے ملتی رہیں۔ہر دو فرزندان مالی خدمت میں معتد بہ حصہ لے رہے ہیں اور علاوہ ازیں میری خدمت بجالانے میں بھی کوئی کو تا ہی نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور بڑھ چڑھ کر خدمت سلسلہ کی توفیق بخشے۔آمین۔حصول اطمینان قلب کے متعلق خاکسار کے معروضات اور حضرت اقدس علیہ السلام کے ارشادات خاکسار نے مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۵ء کو حضرت اقدس کی خدمت بابرکات میں حاضر ہو کر حصول اطمینانِ قلب کے لیے کچھ معروضات پیش کئے۔اس پر حضور علیہ السلام نے مجھے نالائق جلد باز کو جو زریں ہدایات اور قرب الہی کے حصول کے جو ذرائع ارشاد فرمائے وہ الحکم ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ء میں اور پھر اخبار الفضل لاہور 9 ستمبر ۱۹۴۹ء میں شائع ہو چکے ہیں۔انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔خاکسار: حضور اطمینان قلب کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟