حیاتِ بقاپوری — Page 181
حیات بقا پوری رکھ دیا۔لیکن مسل خواں نے ان لکیروں کے بھی کچھ نہ کچھ الفاظ بنا کر مسل پڑھ کر سنا دی۔181 یہ رویا اس طرح پوری ہوئی کہ اس سے ایک دن قبل میں نے مولوی محمد علی صاحب کے خطبہ کا جواب لکھا تھا۔جس میں انہوں نے ستمبر ۱۹۴۹ء کے آخری ایام میں بعض فرضی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔نیز ۲۲ فروری ۱۹۵۴ء کو بھی یوں پوری ہوئی کہ مولوی کرم الہی ظفر صاحب مبلغ کے ولیمہ پر حضرت خلیفتہ لمسیح الثانی کو تظمین ولیمہ نے دیر سے بارہ بجے بلایا۔حضور نے تشریف لاتے ہی فرمایا کہ میں نماز کےلئے کھانا میں ہی اُٹھ کر چلا جاؤں گا۔لہذا پہلے ہی دعا مانگ لی جائے۔دعا مانگنے کے بعد میں نے کچھ اضطراب کے کلے عرض کئے۔جس سے میرا مقصد یہ تھا کہ حضور کے اُٹھنے سے ہمیں بھی اُٹھنا پڑیگا۔حضور نے فرمایا مولوی صاحب میں کوئی مولوی نہیں ہوں کہ کھانے کے لئے نماز ضائع کر دوں۔میں نے عرض کیا کہ میں بھی حضور کے ساتھ ہی چلا جاؤں گا کیونکہ نیت اور وضو کر کے آیا ہوں کہ آج ظہر کی نماز حضور کے پیچھے پڑھوں گا۔چنانچہ کھانا آیا تو میں جلدی جلدی کھانے لگا۔حضور نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ مولوی صاحب آہستہ آہستہ کھا ئیں اور لقے بھی چھوٹے چھوٹے لیں۔نیز فرمایا کہ مولوی صاحب آپ بے شک اطمینان سے کھا ئیں میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ہم دوبارہ بھی دعا کر کے اٹھیں گے۔۸۴ ۱۰ اگست ۱۹۵۳ء کو ر دیا میں دیکھا کہ میں نواب محمد عبداللہ خاں صاحب سے کہتا ہوں، باتوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے سر ٹیفکیٹ نہ مل جائے۔مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سر ٹیفکیٹ ملا ہے: إنا لله و إنا اليه راجعون يعنى رضاء بالقضاء کا مقام۔اس میں عسریر، صحت و بیماری میں قلب مطمئن رہتا ہے۔الحمد للہ کہ حضرت مسیح موعود السلام کی توجہ اور دعا کی برکت سے مجھ پر یہ انعام الہی ہے۔اس کے حصول کے لئے ایمان باللہ کے ہمراہ عاشقانہ اور مجاہدانہ عملی قدم اٹھا نا ضروری ہے۔۸۵ ۲۴ نومبر ۱۹۵۳ء بلڈ پریشر کے دورہ کی وجہ سے طبیعت میں سخت گھبراہٹ تھی اور خیال تھا کہ عمر قریب الاختتام ہی معلوم ہوتی ہے۔غنودگی میں زبان پر جاری ہوا: بَلْ لَبِثْتَ مِائة عام آنکه کلی تو بفضلہ افاقہ تھا۔نوٹ: مجھے اپنی عمر کے متعلق مختلف خوابیں آ رہی ہیں۔جن کے بیان کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے