حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 18 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 18

حیات بقاپوری 18 دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام آسمان سے اترے ہیں اور مجھے حضرت عیسی علیہ السلام آکر کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اگر میں جسم کے ساتھ زندہ ہوتا تو نیچی کے ساتھ کیوں ہوتا۔جب میں بیٹی کے ساتھ ہوں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ جس طرح کی زندگی بیٹی کو حاصل ہے وہی مجھے حاصل ہے۔میری پہلی بیوی کے زہر خوری کا واقعہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ نشان جن دنوں میں احمدی ہو جانے کے بعد اپنے تہیال میں رہا کرتا تھا تو جعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گوجرنوالہ جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ جب میں جمعہ پڑھ کر واپس آنے لگا تو حکیم محمد الدین صاحب نے جو وہاں امام الصلوۃ تھے مجھے فرمایا کہ میں ایک مفید علاج بتا تا ہوں آپ بھی سُن لیں کیونکہ آپ بھی طبابت کرتے ہیں ممکن ہے کسی وقت آپ کو اس کی ضرورت پیش آجائے۔وہ یہ ہے کہ میرے چچانے لاہور میں غلطی سے سنکھیا کھا لیا تھا۔ہر چند علاج کیا گیا لیکن کوئی بہتری کی صورت نظر نہ آئی۔جو دوا کھلائی جاتی تے ہو جاتی۔معدہ کوئی چیز قبول ہی نہ کرتا تھا۔آنکھیں کھنچ گئیں اور شیخ کی حالت پیدا ہوگئی۔ادھر شام کا وقت بھی ہو گیا۔میرے باپ نے مجھے ایک ڈاکٹر کے پاس بھیجا کہ اس سے دوا لے آؤں۔ڈاکٹر نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ تم اپنے چچا کو ایک دو چھٹا تک دودھ میں انڈے کی سفیدی پھینٹ کر پندرہ پندرہ ہیں ہیں منٹ کے بعد پلاتے جاؤ انشاء اللہ تعالے بیچ جائے گا۔میں پانچ چھ انڈے اور ایک سیر دودھ لے آیا۔کچا دودھ لیکر اس میں انڈے کی سفیدی پھینٹ کر پلائی تو بچ گئی اور قے نہ ہوئی اس طرح ہم نے چا کو آٹھ دس انڈوں کی سفیدی رات بھر دودھ میں حل کر کے پلا دی اور وہ تندرست ہو گئے۔اب خدا تعالیٰ کی حکمت دیکھئے کہ جب میں عصر کے وقت گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری بیوی جس نے غلطی سے سنکھیا کھا لیا تھا قریب المرگ تھی۔اسے بھی کوئی چیز نہ چھتی تھی تشیخ شروع تھا۔آنکھوں میں کھچاوٹ تھی اور حالت مایوس کن تھی۔غیر احمدیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اس مرزائی کی خانہ بربادی اس کی مرزائیت کے باعث ہونے لگی ہے اگر اس کا مرزا سچا ہے تو اپنے مرید کی بیوی کو دعا کر کے بچائے۔اُس کا باپ اور اس کی بہنیں روتے ہوئے مجھے کہنے لگے کہ اس کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔میں نے سوچا کہ اس کا علاج تو خدا تعالے کے