حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 17 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 17

حیات بقاپوری 17 چھوڑا۔جب کبھی والد صاحب غصہ سے جوش میں آجاتے تو میں باہر بھاگ جاتا تھا۔آخر ایک سال کے عرصہ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے میری دستگیری کی اور میرے والد صاحب اور چھوٹے بھائی اور دونوں بھاوجوں نے بیعت کر لی اور سوائے بڑے بھائی کے جو قادیان میرے ساتھ گیا تھا اور کہتا تھا کہ گھر جا کر خط لکھوں گا، گھر میں کوئی فرد احمدیت سے محروم نہ رہا۔اور آخر کار حضرت خلیفتہ مسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں وہ بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔انہی دنوں کا ایک واقعہ یاد آیا کہ گاؤں کے ایک سکھ صاحب بیمار ہو گئے جن کی عیادت کے لیے دوسرے گاؤں سے سکھ نمبر دار آیا اور میں بھی گیا۔وہاں پر ایک مسلمان حکیم بیٹھا ہوا تھا۔نمبردار نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب! یہ کیا بات ہے کہ لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔آخر آپ میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ میں نے کہا کہ فرق کی جڑ صرف اتنی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ سب رسولوں اور نبیوں پر لوگوں کے حملوں، ایذاؤں اور تکلیفوں کے وقت اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اسی دنیا میں رکھ کر نجات دی اور ظالموں کو ہلاک کیا جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے ، حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان آب سے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کوفرعونیوں اور بحیرہ قلزم سے حضرت یونس علیہ السلام کو تین دن مچھلی کے پیٹ میں رکھ کر سمندر کی تہ میں سے زندہ باہر نکالا۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن غار میں دشمنوں کے غار کے منہ پر پہنچ جانے اور کھوجی کے نشان دینے پر کہ وہ اس غار میں ہے زندہ سلامت مدینہ پہنچایا۔لیکن جب حضرت عیسی علیہ السلام پر ایسی مصیبت آئی تو اُن کو خلاف سنت مستمرہ زندہ مع جسم آسمان پر اٹھالیا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ بھی دوسرے انبیاء کی طرح اسی زمین پر دشمنوں سے بچائے گئے اور پھر اپنی طبعی عمر پوری کر کے اسی زمین میں دوسرے رسولوں کی طرح دفن ہوئے۔آسمان پر نہیں گئے۔اس پر وہ سکھ نمبر دار کہنے لگا کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں ہماری کتب میں لکھا ہے کہ آسمان پر صرف با وانا تک صاحب ہی گئے ہیں۔اس پر حکیم صاحب اور سکھ میں بحث شروع ہوگئی۔وہ اُسے جھٹلاتا اور یہ اُسے بے وقوف بناتا۔میں نے کہا میری بات بھی سن لو در اصل آسمان پر کوئی نہیں گیا۔اگر یہاں پر کوئی یہودی آجائے تو وہ کہے گا کہ آسمان پر صرف الیاس نبی گئے ہیں۔آسمان پر جانے سے مراد صرف روحانی معراج ہے اور یہ روحانی معراج زندوں کو کشفی جسم کے ساتھ ہوتا ہے اور متوفی ارواح جسم خاکی کو چھوڑنے کے بعد وہاں جاتی ہیں۔اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک رات میں تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھا ہوا تھا کہ کشفی حالت میں میں نے