حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 16 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 16

حیات بقاپوری میری ایمانی و عرفانی ترقی کا باعث ہوا۔16 ان واقعات کے ظہور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ میری محبت اور عشق میں بھی ترقی ہونے لگی اور میں دیوانہ وار تبلیغ کرنے میں مصروف ہو گیا۔اس پر میرے ماموں نے مجھے سخت غصے ہو کر ایک دن ڈانٹا اور کہا کہ یہاں سے خود بخود نکل جاؤ وگرنہ میں تھانہ کے ذریعہ تم کو یہاں سے نکلوا دوں گا۔چنانچہ میں مرالی والا کو چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں بقا پور میں واپس آ گیا۔بقاپور میں مخالفت کی ابتداء:۔بقا پور میں آنے کے بعد میرا بائیکاٹ تو نہ ہوا کیونکہ ہم وہاں کے زمیندار تھے البتہ عوام اور مولویوں کی مخالفت شدید صورت اختیار کر گئی۔میں خود زمینداری نہیں کرتا تھا اس وجہ سے میری آمد کی کوئی خاص صورت نہ تھی۔لیکن چند دن گزرنے کے بعد وہاں کے چندلر کے مُجھ سے فارسی پڑھنے کے لیے آنے شروع ہو گئے اور اس طرح روزگار کی بھی کچھ صورت پیدا ہوگئی۔اس زمانہ میں دن بدن مجھے نمازوں میں زیادہ سرور اور لذت حاصل ہو رہی تھی اور میں بہت رقت سے دعاؤں میں لگا رہتا تھا اور اکثر اللہ تعالیٰ کے سامنے روتا اور تضرع و ابتہال کرتا رہتا۔لوگوں کی مخالفت میرے لیے زیادہ دعائیں کرنے اور گڑ گڑانے کا باعث بنتی اور میں اللہ تعالیٰ سے زور شور سے دعا ئیں اور التجائیں کرتا۔لوگوں کی مخالفت کے علاوہ میرے گھرانہ میں بڑے بھائی کے سوا میرے والدین اور چھوٹا بھائی بھی میرے مخالف ہو گئے اور اکثر بُرا بھلا کہتے رہتے۔جب میری واپسی پر ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا تو میری والدہ جو بہت نیک اور نماز کی پابند تھیں میرے والد صاحب کو کہنے لگیں کہ میرے بیٹے کو کیوں بُرا کہتے رہتے ہو۔اس میں کیا عیب ہے اور کون سی بُرائی ہے۔یہ تو پہلے سے زیادہ نمازیں پڑھتا ہے اور تہجد کا بھی پابند ہے۔والد صاحب نے کہا اس نے مرزا کو مان لیا ہے۔جو مہدی کا دعویٰ کرتا ہے۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ امام مہدی کے معنے تو ہدایت یافتہ لوگوں کے امام کے ہیں اُن کو ماننے سے تو میرے بیٹے کو زیادہ ہدایت نصیب ہوگئی ہے کیونکہ اس نے ان کو مان لیا ہے اور اس کا ثبوت اس کے عمل سے ظاہر ہے۔اور ساتھ ہی مجھے کہا کہ بیٹا میری بیعت کا بھی خط لکھ دو۔چنانچہ والدہ صاحبہ مرحومہ کے بعیت کر لینے سے سوائے والد صاحب کے باقی گھر کے لوگ خاموش ہو گئے لیکن میں نے انکو تبلیغ کرنانہ