حیاتِ بقاپوری — Page 82
حیات بقا پوری 82 ایک دفعہ پٹیالہ میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر میر امناظرہ ایک غیر احمدی مولوی سے تھا۔اس نے میرے دلائل کا جواب دینے کے بجائے حضرت اقدس کی شان میں گستاخی اور آپ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔میں نے جلدی سے اُٹھ کر میز سے اپنی کتا بیں اکٹھی کر کے اٹھا لیں اور کہا کہ میں مباحثہ نہیں کرتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے روحانی باپ ہیں۔یہ مولوی میرے پیش کردہ دلائل کو توڑے نہ کہ ان کو بُرا بھلا کہے۔کیونکہ اگر میں اس کے باپ کو جھوٹا یا لعنتی کہوں تو اس کو غصہ آئیگا یا نہیں۔ان کے صدر پر میری اس بات کا خدائے تعالیٰ نے اثر ڈالا وہ کہنے لگا۔آپ نے ہمارے مولوی کے باپ کو جھوٹا اور منتی کہہ بھی دیا ہے۔یہ اس کے فعل کی سزا ہے۔آپ مباحثہ کریں میں اپنے مولوی کو روک دیتا ہوں۔آپ دونوں شریفانہ گفتگو کریں۔اس کی ایک یہ بھی وجہ تھی کہ میں پریذیڈنٹ کے مکان پر جا کر اس سے ملاقات کر آیا تھا۔۳۸۔حکمت عملی سے رشتے کا قیام ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہمارے محلہ کے امام مسجد حافظ محمد ابراہیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھائی قدرت اللہ کے ہاں ضلع انبالہ گئے کہ اپنی بھتیجی کا جو ان کی بہو بھی تھی رخصتانہ کرا کے قادیان لا ئیں۔لیکن اُن کا بھائی اور بیوی کسی طرح رخصتانہ پر راضی نہ ہوئے اور عذر کیا کہ ابھی ہمیں مالی وسعت نہیں۔ایک سال کے بعد لڑکی کو رخصت کریں گے۔حافظ صاحب نے بہت منت سماجت کی لیکن کام نہ بنا۔وہ دس روز رہ کر واپس چلے آئے۔حافظ صاحب کے لڑکے نے اس واقعہ کا ذکر کر کے مجھے کہا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ وہاں چلیں تو آپکی طرز گفتگو سے امید ہے کہ میرا چا راضی ہو کر میری بیوی کو بھیج دے۔آپ کی آمد ورفت کا کرایہ ہمارے ذمے ہوگا۔میں نے کہا دفتر دعوۃ و تبلیغ سے اجازت لے لو۔یہ ثواب کا کام ہے میں ضرور جاؤں گا۔اس کی درخواست پر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ناظر دعوۃ و تبلیغ نے مجھے فرمایا کہ آپ ان کے ساتھ جا کر حافظ صاحب کی بہو کا رخصتانہ کرا دیں۔کرایہ وغیرہ وہ اپنے ذمہ لیتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ حافظ صاحب غریب آدمی ہیں اور سلسلہ کا کام کرتے رہتے ہیں۔تب آپ نے فرمایا اچھا دفتر سے کرایہ لے لیں۔جب میں حافظ صاحب کے لڑکے کو لے کر چل پڑا تو راستہ میں دو تین روپے کا پھل لے لیا اور لڑکے کو کہا کہ تم اپنے چا کے گھر چلو اور سلام کر کے بیٹھ جانا اور کہنا کہ میرے ساتھ مولوی بقا پوری صاحب بھی ہیں۔اس نے ایسا ہی کیا۔اس کے چانے اُسے بٹھایا اور میرے لیے چار