حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 64 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 64

حیات بقاپوری 64 سروپ رکھا ہوا تھا ) آیا اور اس نے اشتہار دیا کہ میں کل آریہ سماج مندرا مرتسر میں اس موضوع پر تقریر کروں گا کہ میں نے اسلام کو کیوں چھوڑا؟ مسلمانوں کے مولوی صاحبان بھی آویں ان کو سوال و جواب کا موقعہ دیا جائے گا۔چنانچہ دوسرے دن اس کا لیکچر سنے کے لیے مسلمان بکثرت آئے۔علی الخصوص اس لیے بھی کہ مولویوں کے ساتھ اس کا مباحثہ دیکھیں۔چنانچہ حنفیوں کی طرف سے مولوی عبدالحق سابق ایڈیٹر اہلسنت والجماعت اور اہل حدیث کی طرف سے مولوی ثناء اللہ اور احمدیوں کی طرف سے خاکسار بھی وہاں پہنچا۔شانتی سروپ نے کھڑے ہو کر بیان کرنا شروع کیا کہ دیکھو جو بیمار ہوتا ہے وہ اس حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جو اسکو بیماری سے نجات دلائے میں بھی گناہ کا بیمار تھا۔میں نے اس مرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے قرآن کریم کے نسخہ کو استعمال کرنا چاہا تو اس میں لکھا دیکھا في قلوبهم مَرَضٌ فَزَادَهُم الله مَرَضًا (۱۱:۲)۔کہ جو پہلے بیمار ہیں، خدا ان کی بیماری اور زیادہ کرتا ہے۔میں نے سوچا اور زیادہ خور سے کام لوں شاید کوئی علاج نکل آئے۔لیکن وہاں پر لکھا دیکھا کہ تم اللہ علی کو بیم (۸:۲)۔میں پھر بھی مایوس نہ ہوا اور زیادہ مطالعہ کیا کیونکہ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ اسلام کو چھوڑ دوں۔میں نے دیکھا کہ وہاں لکھا ہے۔پھیل بہ کثیر ا (۲: ۲۷)۔تو میں نے لاچار ہو کر انتہائی مایوسی کے بعد اسلام کو چھوڑ دیا اور آر یہ مذہب کا مطالعہ کیا تو اس میں میں نے اپنی بیماری کا علاج پا لیا اور پھر اسے اختیار کر کے شفاء حاصل کی۔شانتی سروپ نے ایک گھنٹہ تک اس بات کو تفصیل سے بیان کیا اور بیٹھ گیا۔پریزیڈنٹ ڈاکٹر دیندیال نے جو ایک آریہ تھا کھڑے ہو کر کہا کہ جو مولوی صاحبان اس پر کچھ کہنا چاہیں وہ اپنا نام لکھوادیں۔چنانچہ لوگوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کا نام لکھوایا اور جب وہ سٹیج پر آئے تو لوگوں نے خوب نعرے لگائے۔اسکے بعد مولوی عبد الحق صاحب کا نام بھی لکھوایا۔اس پنڈال میں احمدی صرف پانچ چھ تھے جن میں سے قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر جوان دونوں انٹرنس میں تعلیم پاتے تھے اور مجھ سے عربی پڑھا کرتے تھے اور بابو فقیر علی صاحب سٹیشن ماسٹر بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ہماری احمدی جماعت کی طرف سے مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا نام لکھ لیں۔کیونکہ میں ایک غیر معروف آدمی تھا اس لیے انہوں نے مفصل پتہ طلب کیا۔میں نے کہا میں مبلغ اسلام ہوں اور قادیان سے تعلق رکھتا ہوں اور مسلمانوں اور غیر مسلموں میں حقیقی اسلام کی تبلیغ کرتا ہوں۔ان دونوں مولویوں کے لیے لوگوں نے کرسیاں خالی کر دیں۔میں عام لوگوں کی طرح نیچے بیٹھا ہوا تھا۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اُٹھ کر کہا کہ یہ آیتیں جو پڑھی گئی ہیں ان سے پہلے إِنَّ الَّل من كفر و سواء متم۔۔۔(۷:۲ ) یہ بدل اور مبدل منہ ہے اور یہ باتیں مخصوص