حیاتِ بقاپوری — Page 56
حیات بقاپوری 56 ۱۳۔میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار راولپنڈی میں ایک غیر مبائع درزی فضل الہی ایک دن مجھ سے کہنے لگا۔کہ ہم تو میاں صاحب (حضرت خلیفہ اسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو بڑا سچا سمجھتے ہیں۔وہ خود کہتے ہیں کہ میں بڑا نالائق ہوں۔ہم کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں وہ بچے ہیں کہ انہوں نے جماعت کے دو ٹکڑے کر دئے ہیں۔میں نے کہا یہ تو آپ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے متعلق بھی مانتے ہیں۔باقی رہا نالائق ہونے کا معاملہ اس کے متعلق خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار پس حضرت خلیہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز کوبھی اسکا اقرار ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح کامیاب بھی ہیں کہ اُن کے مشن کو بطریق احسن چلا رہے ہیں اور اُن کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ وہ ساری پیشگوئیاں پوری کر رہا ہے جن کا وعدہ اس نے حضرت مسیح موعود سے کیا تھا۔اور نوے فی صدی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ پر جمع کر دیا ہے۔۱۴۔دین کے معاملے میں دنیاوی تعلیم کوئی معیار نہیں ایک دفعہ یہی فضل الہی کہنے لگا کہ آپ میاں صاحب کو لائق کہتے ہیں وہ تو میرے سے بھی کم تعلیم یافتہ ہیں۔میں میٹرک پاس ہوں وہ انٹرفیس فیل۔میں نے کہا ہاں جناب آپکی لیاقت تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ گئی ہے کیونکہ وہ انٹرنس پاس نہ تھے اور تم پاس ہو۔اس پر حاضرین کہنے لگے ارے یہ بھی کوئی لیاقت کا معیار ہے جسے تو پیش کرتا ہے۔-۱۵ خلیفہ وقت کی امر بالمعروف میں تابعداری غالباً 1919 ء کا ذکر ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب ولایت سے آئے تو میں جلسہ سالانہ پر جاتے ہوئے اُن سے لاہور میں ملا۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگے کہ میں تو میاں صاحب کے ہر امر بالمعروف میں تابعداری اور اطاعت کرنے کو تیار ہوں۔میں نے کہا امر بالمعروف کے معنے آپ کیا لیتے ہیں۔کیا ان سے کوئی امر بالمنکر بھی صادر