حیاتِ بقاپوری — Page 55
حیات بقا پوری أذيع إلى سبيل ريك بالحجامة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي الحسن ) (۱۳۲:۱۲) -۱۲ قرآن کریم کے ذریعے حق کا پیغام 55 1919ء میں جب میرا تقرر راولپنڈی میں تھا۔چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار کے بڑے بھائی چوہدری عبدالحق صاحب وہاں انسپکٹر پولیس تھے۔سید محمد اشرف صاحب رضی اللہ عنہ بھی ان دنوں راولپنڈی میں متعین تھے اور چونکہ وہ ضلع شاہپور کے رہنے والے تھے۔اس لیے چوہدری عبدالحق صاحب سے ان کی ملاقات رہتی تھی۔چوہدری افضل حق صاحب اُن دنوں نئے نئے بی اے پاس کر کے اپنے بھائی کے پاس آئے تھے۔ان کی طبیعت پر مغربی فلسفہ کا رنگ غالب تھا۔چنانچہ ایک روز چوہدری عبدالحق صاحب نے شاہ صاحب سے ذکر کیا کہ افضل حق بی اے تو پاس کر آیا ہے لیکن دہریت سرایت کر گئی ہے۔نہ خدا کو مانتا ہے اور نہ اسلام سے دلچسپی رکھتا ہے۔شاہ صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے مولوی صاحب یہاں موجود ہیں اُن سے قرآن شریف کا ترجمہ افضل حق کو پڑھوائیں تا کہ دینی علوم سے بھی اُسے واقفیت ہو جائے۔اس پر انہوں نے چوہدری افضل حق صاحب کو میرے پاس بھیجا۔میں نے محبت اور پیار سے افضل حق صاحب کو قرآن شریف کا ترجمہ پڑھانا شروع کیا۔ان کی طبیعت میں غور کرنے کا مادہ تھا۔مسائل کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے اور زیادہ تر اسلام کی حقانیت اور برتری کے متعلق سوالات کرتے تھے۔یہ درس تقریباً اڑھائی ماہ تک جاری رہا۔اس کے بعد چونکہ چوہدری عبدالحق صاحب کی تبدیلی لاہور ہو گئی اس لیے افضل حق صاحب کو بھی اُن کے ہمراہ لاہور جانا پڑا۔لیکن اس عرصہ میں انہوں نے اتنا پڑھ لیا تھا جس سے اُن کے دل میں قرآن شریف اور اسلام کی عظمت گھر کر گئی تھی اور دینی مسائل سے انہیں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بھی انہیں حسن ظنی پیدا ہو گئی تھی۔لیکن اُن پر چونکہ سیاست غالب تھی اس لیے وہ سلسلہ سے حسن ظنی کے مقام سے آگے نہ بڑھ سکے۔کچھ عرصہ بعد جب انہوں نے میدان عمل میں قدم رکھا تو سیاست اور دیگر وجوہ کی بناء پر وہ سلسلہ کے مخالف بن چکے تھے۔لیکن اس دور میں بھی ان کے پیدا کردہ لڑیچر سے سلسلہ سے حسن ظنی ظاہر ہے۔اور سید محمد اشرف صاحب سے لاہور میں متعدد ملاقاتوں میں اس امر کا اعتراف تو وہ کھلم کھلا کرتے رہے کہ مجھے تو مولوی بقا پوری صاحب نے مسلمان بنایا ہے وگرنہ میں اسلام کیا ، خدا بھی نہ مانتا تھا۔