حیاتِ بقاپوری — Page 389
حیات بقا پوری 389 لئے اسے معلوم نہیں کہ مصافحہ کس طرح کیا جاتا ہے۔اس پر اسکا دوسرا ساتھی اسے کہتا ہے کہ اس طرح مصافحہ نہیں کیا کرتے۔اس طرح کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اُس نے اپنے ہاتھ کو مروڑا اور میں نے بھی اپنے ہاتھ کو چکر دے کر اُس سے مصافحہ کیا۔اُس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گو اُس کا منہ دوسری طرف ہے مگر وہ چوری چوری کنکھیوں سے ہمیں دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد میں وہاں سے نماز کے لئے آتا ہوں۔اور میرے دل میں یہ خیال آتا ہے۔کہ اب میں انگلستان کی طرف جانے والا ہوں چونکہ وہاں انگریزوں سے ملنا ہے اس لئے کم سے کم در و صاحب کو میں تار دے دوں کہ راستہ میں مجھے آکر ملیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اب خواب میں بہت مختلف ممالک کے آدمیوں کو میں نے دیکھا ہے۔عربوں کو دیکھا ہے جاپانیوں کو دیکھا ہے اُن سے مصافحہ کیا ہے۔اُن کے حالات معلوم کئے ہیں۔پھر اپنے آپ کو ایک سفر پر جاتے دیکھا ہے اور آخر میں انگلستان جانے کا ارادہ کیا ہے۔یہ تمام امور تبلیغ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ممکن ہے جاپانیوں کی جو شرمندگی اور ندامت مجھے دکھائی گئی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارے دور مبلغ جاپان میں رہے ہیں اور دونوں کے کام کے نتیجہ میں سوائے ایک شخص کے جو مشتبہ سا تھا اور کوئی احمدی نہیں ہوا۔گویا جاپانیوں نے مذہب کی طرف بالکل توجہ نہیں کی مگر اس رویا سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر اس قوم میں بھی ندامت پیدا ہوگی اور جب اُن میں تبلیغ پر زور دیا جائے گا اور انہیں اسلام اور احمدیت کی طرف کھینچا جائے گا۔تو کچھ حصہ تو دلیری سے مصافحہ کر لیگا۔یعنی احمدیت کو قبول کر لے گا۔مگر کچھ حصہ اس شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے دسیر لگائے گا۔خطبه جمعه فرموده ۸ - جنوری ۱۹۴۳ء - منقول از الفضل ۷۔فروری ۱۹۴۳ء)