حیاتِ بقاپوری — Page 385
حیات بقا پوری 385 نے بہت احتجاج کیا واویلا کیا لیکن میری کوئی شنوائی نہ ہوئی۔چنانچہ میں نے دعا کہ لیے حضرت مولانا بقا پوری صاحب سے رجوع کیا اور ان سے ملاقات کیلئے ربوہ پہنچا اور انکو اپنی سرگذشت سنائی۔حضرت مولانا بہت معمر اور ضعیف تھے۔اور انکو محکمانہ پیچیدگیوں کی باریکیوں کی سمجھ نہ تھی۔انہوں نے دعا کہ بعد فرمایا کہ انشاء اللہ آپ جلد ہی واپس اپنی اصلی جگہ پر اور اپنے اصلی محکمہ میں چلے جائینگے۔اور اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت ایسی ہوگی جیسے ایک باپ اپنے بچے کو چیز دینے کیلئے مذاقا آگے پیچھے کرتا ہے۔ویسے ہی انداز میں دیگا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ بعض دفعہ مومن کی زبان اللہ تعالیٰ کی زبان بن جاتی ہے۔چنانچہ اسی طرح میری غرض جس طرح حضرت مولا نا بقا پوری صاحب نے فرمایا اسی طرح بڑی شان سے پوری ہوئی۔وہ اس طرح کہ مغربی پاکستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ان دنوں مسٹرا کرام ال EX IC تھے۔ہندوستان کی تقسیم سے پہلے انگریزوں کے زمانہ میں آئی سی ایس ہونا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔بڑے بڑے راجے مہاراجے بھی اپنی بیٹیوں کہ لیے C۔S۔افسروں کی کھوج میں رہتے تھے۔اکرام الحق صاحب بھی پرانے C۔S۔اتھے اور ان کا عہدہ بھی بہت اونچا تھا۔انہوں نے بطور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایک سرکر شائع کیا کہ جو افسر جس مد میں مزید تعلیم بیرون ملک سے حاصل کر کے آئے اسے اسی مد میں تعینات کیا جائے تاکہ ملک کو اسکی ٹریننگ کا فائدہ ہو۔میری ٹریننگ ہائی وے میں تھی اور تعیناتی دوسرے محکمہ ہیلتھ انجنیر نگ میں کر دی گئی تھی۔جب یہ سرکلر میری نظر سے گذرا تو میں نے سیدھا ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو اپنا معاملہ لکھ کر بھیج دیا۔حالانکہ از اوئے قاعدہ مجھے بالا افسران کے ذریعہ سے درخواست کو بھیجنا چاہیے تھا۔اب اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی ہوئی کہ میرا ایک ساتھی کسی کام کی غرض سے اکرام الحق صاحب کے پاس کھڑا تھا۔اُس وقت ہمارے چیف انجنیئر صاحب کو اکرام الحق صاحب نے بلا بھیجا تھا۔جب ہمارے چیف انجینئر صاحب کو اکرام الحق صاحب ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے دفتر میں آئے تو اکرام الحق نے میری فائل غصہ کی حالت میں چیف انجنئیر کی طرف پھینکی اور کہا کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے کہ مرزا مقصود احمد تو ہائی ویز میں ٹرینینگ لے کر آیا ہے اور اسکو ہیلتھ انجنیئر نگ میں تعینات کیا گیا ہے۔اور حکم دیا کہ مرزا مقصود کو چوبیس گھنٹے کے اندر محکمہ ہائی ویز میں تعینات کیا جائے۔ان دنوں پبلک ہیلتھ انجنئیر نگ کا چیف انجنیئر ایک سندھی تھا اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کو آپ کی دیا نتداری کی وجہ سے اپنے محکمہ میں رکھنا چاہتا تھا لیکن آپ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو لکھ کر ایسی آگ لگائی ہے کہ اسکا اب کوئی سدباب نہیں۔چنانچہ حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کی بات اسی طرح پوری ہوئی جس طرح انہوں نے ہاتھ ہلا کر کہی تھی۔