حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 358 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 358

حیات بقاپوری 358 مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کے عاشق اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچی عقیدت اور ارادت رکھتے ہیں۔ہمیں ہمیشہ یہی تلقین کرتے رہتے ہیں کہ اگر تم اپنی زندگیوں کو اسلامی اور اپنے گھروں کو جنت بنانا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اختیار کرو اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کرام کے پاک نمونہ کو اپنا طریق عمل بنالو۔اصلی کام اور نمونہ وہی ہے جو انسان خود کر کے دکھلائے۔صرف اپنے باپ دادوں کے کارناموں پر فخر کرنا حماقت اور نادانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی پوری توفیق بخشے۔آمین۔خاکسارہ اہلیہ مولوی بقا پوری صاحب فرماتے ہیں: مکرم مولا نا عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کی واعظانہ حیثیت جب یہ خاکسار ۱۹۳۰ء میں مبلغین کلاس سے فارغ ہوا تو نظارت دعوۃ و تبلیغ نے ابتدائی تجربہ اور ٹرینینگ کیلئے جن بزرگوں کو تجویز فرمایا اُن میں سے خصوصیت سے قابل ذکر مکرم محترم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا وجود ہے۔مجھے ان کے فیض صحبت سے بہت ہی مفید معلومات اور تجارب حاصل ہوئے۔انہوں نے ہمدردانہ سلوک سے مجھے بہت ہی متاثر کیا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔مجھے محترم مولانا کے ہمراہ ۱۹۳۰ میں بٹھنڈا، کوٹ کپورا ہوگا، زیرہ ، فیروز پور ، قصور، جوڑا اور کھر پڑ کی جماعتوں کے دورہ کا موقعہ ملا۔اس دورہ میں کئی مقامات پر مولوی صاحب کو اپنے سامان سمیت پیدل پانچ چھ میل تک کا سفر بھی کرنا پڑا۔احباب جماعت مولوی صاحب کی بے تکلف اور جفاکش طبیعت سے بہت متاثر ہوتے تھے۔اور انکی پند و نصائح کو پوری توجہ سے سنتے تھے۔چونکہ مولوی صاحب کی آواز بہت بلند تھی اس لئے رات کے وقت گاؤں میں چھت پر وعظ کو تمام گاؤں کے لوگ اطمینان سے اپنے گھروں میں بیٹھے بھی سُن سکتے تھے۔اور غیر احمدی علماء کا یہ پروپیگینڈا کہ احمدی علماء کے مواعظ کو نہ سنیں دھرا کا دھرا رہ جاتا تھا۔