حیاتِ بقاپوری — Page 356
حیات بقاپوری 356 ہے اور الہی فیوض کے عکس کو بڑی جلدی قبول کرتا ہے۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء مگر یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اور برکت کی طفیل ہے۔الحمد لله علی ذالک۔سندھ میں بحیثیت مبلغ آپ بفضل خدا بڑے کامیاب رہے اور صوفیانہ رنگ میں آپ کی تبلیغ بڑی موثر رہی۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور عاقبت بالخیر کرے۔آمین محمد رفیع صوفی ریٹائرڈ ڈی۔ایس۔پی سکھر امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سندھ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی اہلیہ محترمہ کے تاثرات میں اپنے محترم خاوند مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے متعلق بعض چشم دید حالات تحریر کرتی ہوں کیونکہ اہلی زندگی کے حالات کے متعلق بیوی سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہو سکتا۔جب میری شادی ہوئی تو اس وقت میری عمر انداز ۱۴۴-۱۵ سال ہوگی اور مولوی صاحب تمہیں سال کے پورے جوان تھے۔اور اس وقت تقویٰ و طہارت، عبادت اور ریاضت کے پابند تھے۔میرے مرحوم والدین بھی احمدیت کے شیدائی اور عابد اور منتقی انسان تھے۔میں نے سسرال میں بھی وہی رنگ دیکھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں سوئی ہوئی ہوتی اور مولوی صاحب آدھی آدھی رات اُٹھ کھڑے ہوتے اور کئی کئی گھنٹے نوافل میں مشغول رہتے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور روتے اور گڑگڑاتے کہ ایسی حالت میں ان کے پاس آرام سے سونا مشکل ہو جاتا اور کئی بار لڑکپن کے باعث جبکہ نیند بہت پیاری ہوتی ہے مجھے غصہ بھی آتا کہ نہ خود سوتے ہیں اور نہ سونے دیتے ہیں۔اور بعض وقت طبیعت میں ندامت پیدا ہوتی تو میں خود بھی اٹھ کر دو چار نفل ادا کر لیتی۔لیکن مولوی صاحب نہ تو تھکنا جانتے تھے اور نہ تھکتے تھے۔نوافل سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت شروع کرتے تو ساتھ ساتھ روتے بھی جاتے۔حتی کہ صبح کی نماز کا وقت ہو جاتا۔جب کبھی میں عرض کرتی کہ آپ کے نزدیک تو آرام سے سونا بھی مشکل ہے تو فرماتے اگر اطمینان سے سونا چاہتی ہو تو چار پائی دوسرے کمرے میں لے جاؤ اور آرام سے سو جاؤ۔میں نے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طفیل یہ انعامات حاصل کئے ہیں اور مجھے ان کی بیعت اور دعاؤں کی تفصیل یہ توفیق ملتی ہے۔اس لیے میں عبادت اور تلاوت کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔اور