حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 355 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 355

حیات بقاپوری مکرم صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائرڈ ڈی۔ایس۔پی سکھر تحریر فرماتے ہیں: امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سندھ 355 حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب سے میری ملاقات ۱۹۲۴ء کی آخری سہ ماہی میں سکھر میں ہوئی جب میں وہاں سب انسپکٹر پولیس ریلوے تھانہ سکھر میں متعین تھا اور محترم با بوا کبر علی صاحب مرحوم انسپکٹر آف ورکس ریلوے روہڑی میں تھے۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بڑی پاکیزہ اور علم آموز تھی۔آپ صوفیانہ طرز پر دینی خیالات کی تعلیم دیتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام اور معرفت کی روشنی میں حقیقت کا اظہار فرماتے۔آپ بڑے مستجاب الدعوت ہلہم الہی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی استطاعت رکھنے والے ہیں۔آپ کی کئی دعائیں قبول ہوئیں اور قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی۔ایک دفعہ میں نے کہا کہ چونکہ میں ضلع پولیس میں رہا ہوں لہذا میری خواہش ہے اور میں کوشش بھی کر رہا ہوں کہ میں واپس ضلع پولیس میں چلا جاؤں۔آپ بھی دعا کریں کہ ایسا ہو جائے۔آپ نے دعا کی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی تو ہو جائے گی مگ اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے علم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالات اچھے نہیں ہوں گے۔چنانچہ میری بدلی لاڑکانہ ضلع میں ہوئی اور وہاں کے بعض افسران بالا سے میرا اختلاف ہو گیا اور مجھے رخصت پر جانا پڑا۔بعد میں حضرت مولوی صاحب کے تعلقات بالکل خانہ واحد والے ہو گئے اور آپ کی دعاؤں سے کئی مشکلات اور بیماریوں سے خلاصی ہوئی۔الحمد للہ۔ایک دفعہ میں حضرت مولوی صاحب کو اپنے والد صاحب بزرگوار صوفی محمد علی صاحب کی قبر پر لاہور قبرستان بی بی صاحبہ میں لے گیا جہاں آپ نے دعا کی اور دعا کے بعد فرمایا کہ آپ کے والد صاحب مجھ کو قرآن شریف پڑھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔اور آپ کی داڑھی حنائی ہے اور قدرے سانولا رنگ ہے۔آپ نے میرے والد صاحب کو نہیں دیکھا ہوا تھا۔اور پھر یہ ذکر کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ داڑھی کو مہندی لگایا کرتے تھے وغیرہ۔تو میں نے کہا کہ ہاں ایسا ہی تھا۔الغرض مختصراً میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ آپ کے دل کا آئینہ بہت صاف