حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 354 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 354

حیات بقاپوری 354 مار لیکن اب یہ حال ہے کہ وہ دلی تمنا رکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولوی صاحب اُن کے پاس ضرور جائیں۔کسی ملک میں کام شروع کرنے سے قبل اس کی زبان اور رسم ورواج سے واقف ہونا لازمی ہے آپ نے چند ماہ میں سندھی زبان میں مہارت پیدا کر لی اور رسم و رواج سے بخوبی واقف ہو گئے۔یہی وجہ ہے کہ آپ ایک کامیاب مبلغ ثابت ہوئے۔آپ اگر کسی متعصب رئیس کے پاس جاتے تو ان کے بچوں کو پیار کرتے اور ان کے لیے شیرینی وغیرہ ساتھ لے جاتے جس کا بہت اچھا اثر ہوتا۔سندھ میں احمدیت کا پیغام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی پہنچ چکا تھا اور چند ایک سعید روحیں آپکی بیعت میں شامل بھی ہو گئی تھیں۔اور خدا کے فضل سے میرے والد صاحب محترم کو بھی یہ موقعہ نصیب ہوا کہ آپ ۱۹۰۵ء میں قادیان جا کر حضور کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے۔مگر منتظم تبلیغ کا دور اس وقت شروع ہوا جب کہ مولوی صاحب تشریف لے آئے۔آپ بیسیوں میل پیدل چلتے اور خدا کے پیارے مرسل کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے۔آپ کی ان تھک کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ چھ سال کے عرصہ میں ساٹھ کے قریب جماعتیں قائم ہو گئیں۔ان میں سے اکثر کو میں نے خود دیکھا ہے۔کمال ڈیرہ، کنڈ پارہ، مسن، باڈہ، بابوری، لاڑکانہ، سکھر، شکار پور، نواب شاہ، سکرنڈ، ٹانوری، قینہ، پٹیارو کوٹری ، دادو وغیرہ۔اور بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جہاں پر آپ کے زمانے میں یہ جماعتیں تو قائم ہوئیں اور اب نہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بعد میں ہمارے مبلغ وہاں نہیں پہنچ سکے اور رفتہ رفتہ وہ جماعتیں دوسروں کے ساتھ مل جل کر نا پید ہو گئیں۔مختصر سے حالات تھے جو میں افادہ عام کے لئے لکھ کر بھیجوا رہا ہوں۔خدا تعالیٰ مولوی صاحب کو لمبی عمر عطا فرمائے۔اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو آپ کے مفصل حالات دوسرے حصہ میں شائع کروں گا۔بشارت احمد بشیر مبلغ گولڈ کوسٹ مغربی افریقہ، حال ربوہ