حیاتِ بقاپوری — Page 353
حیات بقاپوری 353 مسلمانوں میں بہت بڑی مقبولیت ہوئی اور غیر احمدی بھی کہنے لگے کہ یہ مولوی صاحب بہت اچھا کام کرتے ہیں۔اس کے بعد محبت ڈیرہ کے قریب ایک گاؤں تھا جہاں کے بڑے گھی ہزاری مل تھے۔وہاں بھی ہندوؤں سے عہد و پیمان ہو چکے تھے کہ وہ انہیں آکر شدھ کریں گے۔مولوی صاحب بہت جلد وہاں تشریف لے گئے۔آپ کے ہمراہ میرے والد صاحب محترم بھی تشریف لے گئے۔وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ بات درست ہے۔وہاں پر مسجد کے ایک مولوی صاحب مدرس کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب ان لوگوں کو سمجھاتا ہے شود ہے۔میرا تو کامل ایمان ہے کہ اسلام ہی سچا مذ ہب ہے۔اگر یہ لوگ شدہ ہو گئے تو میں کسی اور جگہ ذریعہ معاش تلاش کروں گا لیکن خدا کے فضل سے آپ کی جدو جہد سے وہ سارے کا سارا گاؤں شدھ ہونے سے بچالیا گیا۔الحمد للہ۔یہ بہت بڑا کارنامہ تھا جو آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا۔جب یہ ارتداد کا سلسلہ ختم ہو گیا تو آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد موصول ہوا کہ اب سلسلہ کی تبلیغ شروع کر دیں۔اور ساتھ ہی آپ کو بیعت لینے کی بھی اجازت دی گئی۔جہاں تک تبلیغی واقعات کا تعلق ہے آپ محض ایک مولوی کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے۔سندھ پیروں، صوفیوں اور اولیاء اللہ کا مقام تھا۔مثلاً پیر جھنڈے والے صاحب کرامات لوگوں میں سے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دعوی کی صداقت پر گواہی دی اور خط کے ذریعہ بیعت لکھ کر بھیجی۔اور یہ خط بجنسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب میں شائع ہوا ہے۔اسی طرح سید عبداللطیف شاہ بھٹ والے بھی صوفی منش لوگوں میں سے تھے۔مگر موجودہ زمانہ میں اسلام فقط نام کا باقی رہ گیا ہے۔پیروں میں وہ تقوی اور اخلاص باقی نہیں رہا بلکہ اس کی جگہ پیر پرستی نے لے لی۔حضرت مولوی صاحب بھی ایک پیر کی طرح وارد ہوئے۔آپ کے اخلاق، طرز گفتگو اور حسن سلوک کے لوگ بہت قائل ہو گئے۔اور بہت سے متعصب رؤساء اور پیر جو احمدیت کا نام سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے جلد ہی آپ کی تبلیغ سے رام ہو گئے۔آپ کو سندھ چھوڑے ایک کافی لمبا عرصہ ہو چکا ہے۔تاہم آپ کی یاد اپنوں اور بیگانوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ ہے۔میں جب قادیان سے واپس موسمی تعطیلات میں گھر جاتا تو غیر احمدی بھی پوچھا کرتے کہ مولوی بقا پوری صاحب کا کیا حال ہے؟ وہ آج کل کیا کرتے ہیں اور پھر انہوں نے سندھ کب آتا ہے وغیرہ۔کبھی تو سندھیوں کی یہ حالت تھی کہ وہ پنجابیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور سندھ کی اس مشہور کہاوت کے مصداق تھے کہ سب ٹار پنجابی