حیاتِ بقاپوری — Page 352
حیات بقا پوری 352 سندھ کے لوگوں کی حالت ملکا نہ قوم کی طرح تھی۔نجومی قوم جو سندھ میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے آریوں نے ان پر ارتداد کا جال پھیلا دیا تھا اور بڑے متمول ہندو اپنی موٹر کاروں میں چکر لگاتے پھرتے تھے اور ان کو شدہ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔یادرکھنا چاہیے کہ یہ جوگی قوم امیران سندھ کے عہد حکومت میں مسلمان ہوئی تھی لیکن انہوں نے اپنے غیر مسلم رشتہ داروں سے رشتہ ناطہ برقرار رکھا اور آخر تک رسوم و رواج کے پابند رہے۔اور یہی سب سے بڑی وجہ ان کے ایمان کی کمزوری کی ثابت ہوئی۔چنانچہ جب آپ کو علم ہوا کہ لاڑکانہ کے قریب ایک شہر ہے وہاں سنجوگی قوم کو شدھ کیا جائے گا تو آپ بھی وہاں پہنچ گئے۔اور وہاں کے رئیس حافظ گوکل چند ( جو حافظ قرآن تھے ) کے بارہ میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ باہر تشریف لے گئے ہیں۔لیکن آپ کو ان کے گھر سے کہلا بھیجا کہ آپ یہاں پر ہی ٹھہریں اور حافظ گوکل چند صاحب جلد واپس لوٹ آئیں گے ان کے گھر ہی آپ کھانا کھا ئیں۔مولوی صاحب نے انہیں بہت کچھ سمجھایا لیکن وہ کہنے لگے کہ جناب ہمارے مولویوں نے کام خراب کیا ہے اور انہوں نے ہماری کچھ بھی مدد نہیں کی۔اب تو ہم ہندووں سے عہد و پیمان کر چکے ہیں۔اور پرسوں سارا شہر ہندو بن جائے گا۔اتنے عرصہ میں شہر کے مذکورہ بالا رئیس بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے بھی کہا کہ اب کیا ہو سکتا ہے۔بعد میں جب آپ کو کھانے کے لیے کہا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں تمہاری روٹی ہر گز نہیں کھاؤں گا اور بے اختیار رونے لگے۔آپ کے زار زار رونے کا لوگوں پر بہت اثر ہوا اور کہنے لگے کہ آپ روٹی تو کھالیں باتیں ہم پھر کریں گے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہوسکتا۔اور آپ کے آنسو برابر جاری تھے۔اس پر گوگل چند نے کہا کہ ہم تو عہد و پیمان کو توڑنا جرم سمجھتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ایمان سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے؟ یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی اور اس نے کہہ دیا کہ ہم ہر گز شدہ نہیں ہوں گے۔اور ہم نے جن سے وعدہ کیا ہے انہیں ابھی خط بھجوا دیتے ہیں کہ وہ ہرگز ہرگز ہمارے پاس نہ آئیں۔مولوی صاحب نے فرمایا پہلے آپ خط لکھیں پھر میں روٹی کھاؤں گا۔اور وہ خط جو انہیں بھیجا گیا وہ مولوی صاحب نے خود ہی ان کے ذریعے لکھوایا۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور ہم بھی تمہیں اس کے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ہم میں سے کسی نے مذہب کو نہیں چھوڑتا۔اور یا درکھو اگر کسی نے آنے کی دوبارہ کوشش کی تو وہ بہت ذلیل ہو گا۔اس کے بعد مولوی صاحب نے اطمینان کا سانس لیا اور خدا کا نام لے کر روٹی کھائی۔آپ نے وہاں چند روز قیام کر کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔جب یہ چٹھی آریوں کو ملی تو وہ بہت تلملائے اور دوبارہ آنے کا ارادہ ترک کر دیا۔سندھ میں اس وقت مولوی صاحب کے اس کام کی وجہ سے