حیاتِ بقاپوری — Page 340
حیات بقاپوری 340 صدر تجویز کیا) نظر بریں حالات میں خوش ہوں کہ مولوی صاحب نے اپنے فرائض کو نہایت دیانتداری، جانفشانی اور عزم و استقلال سے سرانجام دیا ہے اور علاقہ میں وہ ایک کامیاب مبلغ ثابت ہوئے ہیں۔ا۔فتح محمد سیال ناظر دعوة وتبلیغ۔( منقول از اخبار الفضل قادیان ۳۱ اگست ۱۹۲۸ء) میر مُرید احمد صاحب و ماسٹر محمد پریل صاحب کی چٹھی آمد از سندھ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمدُه وَ نُصَلَّى عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہمارے مربی محسن مولانامحمد ابراہیم صاحب بقا پوری امیر التبلیغ سندھ بیماری کی وجہ سے واپس دارالامان بلائے گئے ہیں اور یہ صدمہ ہمارے سندھی احباب کے لیے کچھ کم نہیں۔کہ جس شخص نے ہمارے علاقہ میں آکر متعصب علماء کے قبضہ سے مسلمانان سندھ کو نہ صرف آزاد کیا بلکہ بہت سی سعید روحوں کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کا بفضل تعالیٰ پابند کرا دیا۔ایسے وجود کا ہم سے جدا ہونا جانکاہ صدمہ ہے۔مگر ہمیں یہ بھی خوشی ہے کہ ہمارا یہ مبلغ سندھ مظفر و منصور جارہا ہے۔۔جب مولا نا بقا پوری صاحب اول اول ۱۹۲۳ء میں سندھ تشریف لائے تو اس وقت سندھ کے لوگوں کی حالت ملکا نہ قوم کی طرح تھی۔سنجوگی قوم پر جو سندھ میں لاکھ کے قریب ہے آریہ قوم نے ارتداد کا جال پھیلا دیا تھا۔مگر اس خیر خواہ اسلام نے آتے ہی یہ کیا کہ جب بڑے بڑے متمول آریہ موٹروں پر چڑھ کر شان و شوکت کیسا تھ اس قوم کے پنچوں پر اثر ڈالتے تھے تو یہ مبشر فقیری لباس میں ہی پیدل جاتا۔آپ اس وقت سندھی زبان سے نا آشنا ہونے کے باوجود سندھیوں کو کسی نہ کسی طرح اپنی بات سمجھا لیتے اور اُن سے سندھی کتاب پڑھتے اور زبان بھی سیکھتے۔آخر تیسرے ماہ بخوبی سندھی زبان میں تقریر شروع کر دی۔غرض اگر ایک جتھہ آریہ قوم کا ایک دن حافظ قرآن گوکل چند سنجوگی کے گاؤں کو آمادہ کر آتا کہ ہم تمہیں شدھ کرنے آئیں گے تو دوسرے دن مولا نا بقا پوری صاحب جا کر سارا