حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 330 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 330

حیات بقاپوری 330 سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ ان کے سامنے پیش نہیں کیا۔مجھے بدر کے ایک فقرہ سے بہت رنج ہوا کہ کوئی مرزا صاحب کا رشتہ دار نورالدین کا مرید نہیں۔یہ سخت غلطی ہے جو کی گئی ہے۔مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیا ر محمود۔بشیر۔شریف نواب ناصر نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں ایک امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں۔ان کو خدا کی رضاء کے لئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سُنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔ایڈیٹر بدر کا فرض تھا۔کہ وہ ایسی تحریر کی فور تردید کرتا اور لکھ دیتا کہ یہ جھوٹ ہے۔میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں مگر نہیں میں خوب جانتا ہوں کہ محمود سب سے بڑھ کرفرمانبردار:۔وہ میرا اسچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم سے ایک بھی نہیں ( جو لوگ سمجھتے ہیں کہ صاجزادہ صاحب خلیفہ اُس کے خلاف عقیدہ رکھتے یا فتوی دیتے ہیں۔وہ ان الفاظ پر غور کریں۔) خلیفہ کی بیعت ہر مرد عورت پر واجب ہے:۔جس طرح پر علی ، فاطمہ عباس نے ابو بکر کی بیعت کی تھی (یہ جو کہتے ہیں کہ ابو بکر کی بیعت محض حکومت کے لئے تھی وہ غور کریں کہ پھر عورتیں کیوں بیعت کرتی تھیں) اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری فرمانبرداری کی ہے اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر فدا ہے کہ مجھے کبھی و ہم بھی نہیں آسکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہو۔جس طریق پر خلیفہ اول کا انتخاب ہوا وہ الہی انتخاب تھا :۔سو ! میرے دل میں کبھی یہ غرض نہ تھی کہ میں خلیفہ بنتا۔میں جب مرزا صاحب کا مرید نہ تھا تب بھی میرا یہی لباس تھا۔میں اُمراء کے پاس گیا اور معزز حیثیت میں گیا مگر تب بھی یہی لباس تھا۔مرید ہو کر بھی میں اسی حالت میں رہا۔مرزا صاحب کی وفات کے بعد جو کچھ کیا خدا تعالیٰ نے کیا۔میرے وہم وخیال میں بھی یہ بات نہ تھی۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالحہ سے چاہا مجھے تمہارا امام وخلیفہ بنا دیا۔اور جو تمہارے خیال میں حقدار تھے اُن کو