حیاتِ بقاپوری — Page 324
حیات بقاپوری 324 صاحب لوگوں سے کہ دینا کہ میں نے حق کو پا لیا ہے۔اور دعا کرنے کے بعد اُن کو تبلیغ کرنا۔اللہ تعالیٰ آپ کی مددفرمائے گا۔اور پھر جب آپ نے دوسرے مہینے اپریل میں مبلغین کی تحریک کی تھی تو اُس وقت بھی حافظ روشن علی صاحب اور بابا حسن محمد اور شیخ غلام احمد صاحب واعظ وغیرہ کے ساتھ میں نے بھی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔تو جس طرح دس سال سے گذارے کا اپنا انتظام کر کے سلسلہ کے ماتحت تبلیغ کر رہا ہوں۔ایسا ہی گزارے کا انتظام میں اب بھی اپنا کرلوں گا۔حضور نے فرمایا پہلے تو آپ انجمن کے چوبیس گھنٹہ ماتحتی میں کام نہیں کرتے تھے۔اب آپ کو یہ گزارے کے لئے لینا جائز ہے۔حضور انور نے اس پر کافی روشنی ڈال کر میری تسلی فرما دی کہ میں گو واقف زندگی ہوں مجھے اس طرح انجمن کے ماتحت رہ کر اُن سے گزارہ لینے کی شرعاً اجازت ہے۔یہ میں نے اس لئے عرض کیا ہے کہ میری طبیعت ساری عمر اسی خیال میں رہی کہ مجھے انجمن سے اضطراری حالت میں گزارہ لینا جائز ہے۔اسی واسطے میرے ترقی متنخواہ کا طریقہ یہی رہا کہ جب دوسروں کی ترقی کا معاملہ حضور کی خدمت میں پیش ہوتا۔تو میرے نام کے آگے حضور خود بخود جو مناسب سمجھتے ترقی فرما دیتے۔چنانچہ میں مولوی شیر علی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ آپ کا گزارہ کتنے میں ہو جائے گا؟ میں نے عرض کیا کوئی دس بارہ روپے ماہوار میں۔مولوی صاحب نے میرے لئے ۱۵ روپے ماہوار گزارہ مقرر کیا۔دوسرے دن جب حضور سے ملاقات ہوئی تو حضور کے دریافت کرنے پر میں نے سارا واقعہ سنا دیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ تھوڑا ہے آپ اسے زیادہ کرائیں۔میں نے عرض کیا حضور ہم دو جی اور ایک بچی ہیں۔اتنا ہی کافی ہے۔آپ نے فرمایا کہ آگے آپ کی رہائش دیہاتی تھی۔اب آپ نے شہری زندگی اختیار کرنی ہے۔اب آپ کو تکلیف ہوگی۔میں نے پھر جا کر یہ واقعہ مولوی صاحب کو سُنادیا اور آپ نے میرے۲۲ روپے مقرر کر دئے۔اس گفتگو سے حضرت اقدس نے سمجھ لیا کہ میں ترقی کے لئے بھی نہیں کہوں گا۔اس واسطے اپنی مرضی سے جب دوسروں کی ترقی کے ساتھ میرا نام بھی پیش ہوتا۔تو حضور انور اس ترقی کو تھوڑا سمجھ کر زیادہ کر دیتے۔یہ واقعہ میں نے اس لئے لکھا ہے تا واقفین اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔اور جب میری پینشن مقرر ہوئی تو قاعدہ کی رو سے ۲۵ روپے کچھ آنے مقرر ہوئی۔لیکن بعد میں حضرت صاحب نے چالیس روپے کر دئے۔جس پر انجمن کے ممبران نے مجھے مبارکباد دی۔