حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 323 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 323

حیات بقا پوری 323 (11) گیارھواں اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے۔کہ خلیفہ شوری سے ہوتا تھا۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ یہ فعل خدا کا ہے۔اور یہی مذہب اپنا حضرت مولانا صاحب خلیفہ اول چھ سال متواتر بیان کرتے رہے ہیں پس خدا تعالیٰ کے واسطے آپ لوگ تقویٰ سے کام لو۔انجمن روحانی ترقی کے لئے کچھ چیز نہیں اور نہ اس کی حالت خود تقوی کی ہو سکتی ہے۔جب تک کہ ایک مطاع خلیفہ کے ماتحت نہ ہو۔کیا دوسری انجمنیں آپ نے نہیں دیکھیں اور اس انجمن کے جنرل سیکرٹری کا حال قل الله ثم ذرھم سے نہیں معلوم ہوا۔یہ سب کچھ عدم بیعت کا نتیجہ ہے۔پھر میں آپ لوگوں سے عرض کرتا ہوں ، کہ ان لوگوں کا رُکنا ماتحت سنت اللہ ہے۔ان میں سے سعید روحیں ضرور واپس آجائیں گی۔صرف چند روزہ ابتلاء ہے۔پس جو مطاع خلیفہ بنا تھا اور جس کو خدا نے بنانا تھا وہ دو ہزار موجودہ انسانوں کی فطرت نے محسوس کر کے اُس کی بیعت کر لی۔اگر آپ لوگ بھی وہاں ہوتے تو خدائی کرشمہ دیکھ لیتے اور ضرور بیعت کر لیتے۔فقط والسلام خاکسار محمد ابراہیم بقا پوری سیکرٹری انجمن احمدیہ نمبر ۹۹ شمالی علاقہ سرگودھا ( الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۱۴ ء صه ۷-۸) اس علاقہ سرگودہا میں جیسا کہ پہلے حصہ حیات بقا پوری میں شائع کر چکا ہوں۔چھ سات سال رہا ہوں اور یہ لوگ چونکہ میری زیر تربیت خلافت اولیٰ میں رہے اور اکثر ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سلسلہ میں داخل ہونے کی رہنمائی فرمائی۔خلافت کی اطاعت میں قائم رہے۔تین چار مہینے کے بعد جب ادھر سے مطمئن ہو گئے تو ماہ اکتو بر ۱۹۱۴ ء میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کا مجھے حکم بذریعہ ڈاک پہنچا کہ آپ یہاں قادیان آجائیں۔جب یہ حکم پہنچا تو اس وقت خاکسار حضور کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اور احباب کرام چک نمبر ۹۹ اور ۹۸ اور چک نمبر ۹ پنیار والوں نے اُس علاقہ میں رہنے کے لئے زور دیا لیکن میں نے یہی کہا کہ جس کے ہاتھ پر میں نے بیعت کی ہے اس کے ارشاد اور منشاء کو انشراح صدر سے پورا کرنا میرا فرض ہے۔جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ترقی اسلام کے منتظم اعلیٰ مولوی شیر علی صاحب ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اُن سے مل کر اپنے گزارے کے متعلق بھی بات چیت کر لو۔میں نے عرض کیا کہ جب مارچ ۱۹۰۵ ء میں بوقت بیعت حضرت مسیح موعود نے میرے عرض کرنے پر مجھے ارشاد فرمایا تھا کہ مولوی