حیاتِ بقاپوری — Page 317
حیات بقاپوری فرمائی جاوے۔غلام نبی مدرس بیرم پور ) 317 (۸) کل بذریعہ پیام اور ایک اعلان کے لاہور سے افسوسناک خبر آئی۔یہ عاجز بمع ان احباب اور مستورات کے بیعت کی درخواست کرتا ہے منظور فرمائی جاوے۔مولوی کرم داد خاں دوالمیال ضلع جہلم مع ۶۰ کس ) نوٹ: صرف آج کی ڈاک میں ہے اس طرح کے خطوط ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح اول کی وفات کے بعد کے واقعات میں سے ایک واقعہ اس بات کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت طلیعہ اس کی زندگی میں بھی بعض ہمارے احباب کو خلافت کے متعلق ابتلاء پیش آیا۔اور نہ ایک بار بلکہ کئی بار۔لیکن چونکہ حضرت خلیفہ مسیح کا یہ ارشاد معرفت اور یقین سے بھرا ہوا تھا کہ خلیفہ بنا نا خدا ہی کا کام ہے۔اس لئے ہمارے وہ احباب خلافت کے رسن سے الگ نہیں ہو سکتے تھے۔اس باطل نے حضرت خلیفہ اس کی زندگی کے آخری چند مہینے پیشتر پھر لاہور سے سر نکالا اور جماعت کے خیالات کو پراگندہ کر نا چاہا۔یہ ایسا کھتا کہ حضرت خلیفہ مسیح اپنے بستر مرگ پر بھی اُسے نہیں بھولے۔جو الفاظ حضرت نے فرمائے وہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور بعض دیگر لاہوری احباب مثل میاں معراج الدین صاحب وغیرہ کو خوب یاد ہیں۔ہم وہ دہرانا نہیں چاہتے۔مگر افسوس سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس لاہوری تحریک نے نہ معلوم کیونکر ہمارے مکرم بھائی مولوی محمدعلی صاحب کو بھی انہی خیالات میں آلودہ کر دیا۔مولوی محمد علی صاحب نے ایک نہایت ضروری اعلان “ کے نام سے اکیس ۲۱ صفحے کا ایک رسالہ لکھا اوراس کو چھوا کر اس غرض سے رکھ چھوڑا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کا واقعہ ہو تو اسکو فوراً پھیلا دیا جائے۔جیسا کہ انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کیا۔۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء کو وفات ہوئی اور اسی روز شام کو یہ ٹریکٹ تقسیم کر دیا گیا۔اور بذریعہ ڈاک اس کی روانگی کا انتظام شروع ہوا۔پیکٹ تیار رکھے ہوئے تھے۔چنانچہ رسالہ بند پیکٹوں کی صورت میں عموما تقسیم ہوا۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ اگر مولوی محمد علی صاحب یا اُن کے ہم خیال بعض احباب لاہور کی رائے میں