حیاتِ بقاپوری — Page 309
حیات بقاپوری 309 بیعت ہوئی اور بیعت ہونے کے بعد لمبی دعا ہوئی جو آہ و بکا کی گونجوں کے ساتھ ختم ہوئی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز تھے۔حضرت خلیفہ اول کا جنازہ مسجد نور کے صحن کے باہر رکھا ہوا تھا۔لوگوں کو صف بندی کا حکم دیا گیا۔صاجزادہ صاحب تشریف لائے اور نماز جنازہ ادا فرمائی۔اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے بیعت نہ کی تھی مولوی محمد علی صاحب کے ارد گرد تھے۔اور وہ چند آدمی تھے۔وہ بھی جنازے میں شریک ہوئے اور دفنانے کے لئے قبرستان تک گئے اور وہاں کھڑے رہے۔یہاں تک کہ تجہیز وتدفین کا کام ختم ہو گیا۔ہفتہ کی شام بلکہ عشاء تک دفتانے سے فارغ ہوئے۔اتوار کے دن جبکہ مولوی محمد علی صاحب کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ قادیان کی رہائش کو چھوڑ کر لاہور جارہے ہیں تو خان صاحب فرزند علی صاحب اور خاکسار اور چوہدری حاکم علی صاحب مرحوم حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر مولوی محمد علی صاحب کو سمجھانے کے لئے گئے۔کہ آپ قادیان ہی رہیں لاہور نہ جائیں۔آپ کو کسی قسم کی تکلیف انشاء اللہ تعالیٰ نہیں ہوگی۔جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا یہ پیغام مولوی محمد علی صاحب کو بذریعہ خان صاحب فرزند علی صاحب سنایا گیا اور دلداری بھی کی گئی تو مولوی محمد علی صاحب نے کہا۔جی میں قادیان نہیں چھوڑ سکتا۔میں تو صرف دو چار دن کے لئے لاہور جارہا ہوں۔یہ کسی نے جھوٹ بولا ہے کہ میں قادیان چھوڑ چلا ہوں۔قادیان کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں نکل سکتی۔مجھے وہ بھی لفظ یاد ہیں جو سیٹھ رحمت اللہ صاحب مرحوم نے خانصاحب فرزند علی صاحب کو کہے کہ ہم بھی میاں صاحب کے سوا کسی کو خلافت کے لائق نہیں جانتے۔میاں صاحب ہی خلیفہ ہونے کے لائق تھے۔ہمیں کسی نے پوچھا نہیں۔غرض اس طرح کی باتیں ہونے کے بعد جب خان صاحب نے واپس آکر حضرت صاحب کو یہ باتیں سنائیں تو حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیزہ خود بنفس نفیس اُن کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔اور السلام علیکم کہہ کر اُن کی طرف متوجہ ہوئے تو مولوی محمد علی صاحب بجائے آپ کے سلام کا جواب اور آپ کی طرف متوجہ ہونے کے میاں بگا کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگ گئے۔آخر آپ تشریف لے آئے۔اور مولوی محمد علی صاحب قرآن مجید کا ترجمہ جو انہوں نے انجمن کے خرچ سے تیار کیا تھا وہ بھی اور دیگر اس سے متعلقہ کتا بیں اپنے ہمراہ لے کر انجمن کے اسباب کے بہانے راتوں رات لاہور تشریف لے گئے مگر انہوں نے وہ اسباب کتابیں اور قرآن مجید کا ترجمہ نہ تو خود واپس کیا اور نہ ہم نے مقدمہ کر کے لیا۔مولوی صدر الدین صاحب کے پاس بھی نصیحت کرنے کی خاطر میں ایک دو دوستوں کے ہمراہ گیا۔