حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 308 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 308

حیات بقاپوری 308 لیکن چونکہ خلیفہ کے دفنانے سے پہلے ہی دوسرا خلیفہ مقرر کر لینا چاہیے جو اس کی نماز جنازہ پڑھائے۔اس لئے انہوں نے مجبوراً ہمیں یہ کہہ دیا کہ تم کوئی خلیفہ مقرر کر لو۔ہم ابھی بیعت نہیں کرتے۔حضرت خلیفہ اول کی آخری وصیت اور انتخاب خلیفہ عصر کی نماز کے بعد نواب محمد علی خاں صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ احباب کرام ! یہ ایک امانت حضرت خلیفہ اسی اول کی میرے پاس ہے وہ آپ کو میں سنانا چاہتا ہوں وہ آپ سن لیں۔یہ وہ وصیت ہے جو حضرت خلیفہ المسیح اول نے اپنی وفات سے سات آٹھ دن پہلے مولوی محمد علی صاحب سے لکھوا کر اور اُن سے پڑھوا کر فرمایا تھا کہ کیوں مولوی صاحب یہ وصیت ٹھیک ہے؟ اور مولوی محمد علی صاحب نے کہا تھا۔جی ٹھیک ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ یہ وصیت نواب محمد علی خان صاحب کو دے دی جاوے اور فرمایا تھا کہ نواب صاحب یہ میری امانت ہے جو میرے مرنے کے بعد احباب کرام کو سُنا دیو ہیں۔نواب صاحب اٹھے اور سُنایا۔حضرت خلیفہ اول نے لکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میرا جانشین متقی پر ہیز گار حضرت مسیح موعود کے نئے اور پرانے اصحاب سے نیک سلوک اور چشم پوشی کر نیوالا اور ہر دل عزیز ہو وغیرہ۔یہ وصیت سُنانے کے بعد نواب صاحب نے بلند آواز سے فرمایا کہ دوستو! اب آپ جس کو اس وصیت کا اہل سمجھیں اسکو منتخب کر لیں۔اس پر مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل اٹھے اور انہوں نے کہا کہ میں حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد کا نام پیش کرتا ہوں۔( تاریخ احمدیت میں ہے کہ مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے تقریر کی تھی اور حضرت عرفانی صاحب نے کہا تھا کہ ہمارے آقا حضور ہماری بیعت قبول فرما ئیں۔دیکھئے تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۵۱۷- مرتب ثانی)۔یہ سنتے ہی سوائے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے تمام حاضرین نے اس کی تصدیق عاشقانہ رنگ میں کی۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب مسجد کے ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور حاضر احباب نے جو مسجد نور میں موجود تھے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔پیر عبدالعلی صاحب کو کہا گیا کہ آپ اٹھ کر بتلائیں لیکن وہ بول نہ سکے۔سب لوگوں نے خوشی سے میاں صاحب کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی اُٹھ کر کھڑے ہوئے اور کچھ کہنا چاہا۔لیکن کسی نے اُن کی نہ سنی۔مولوی صدر الدین صاحب نے اُن کا گرتہ پکڑ کر کہا آپ بیٹھ جائیں۔