حیاتِ بقاپوری — Page 304
حیات بقاپوری 304 صاحبزادہ صاحب نے نماز فجر پڑھانے کے بعد مجھے فرمایا کہ آپ چالیس احباب کو میرے کمرے میں جمع کریں میں نے اُن سے مشورہ کرنا ہے۔اُن کی تعداد چالیس ہونی چاہیے۔میں نے لوگوں کو نیلا یا اور دروازے پر مکرم شیخ یعقوب علی صاحب کو گنے پر مقرر کیا اور جب چالیس آدمی پورے ہو گئے تو شیخ صاحب نے یہ کہہ کر کہ چالیس آدمی جو میرے آقا نے کہا ہے پورے ہو گئے ہیں۔دروازہ بند کر لیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے مختصری تقریر میں فرمایا کہ میں نے آپ چالیس لوگوں کو اس لیے بلایا ہے کہ الوصیت میں جو لکھا ہے کہ جس پر چالیس آدمی متفق ہوں وہ خلیفہ اور یعت لینے کا مجاز ہے تو آپ چالیس آدمی یہ بتلائیں کہ خلیفہ انجمن کا مطیع ہوگا یا انجمن خلیفہ کی مطیع ہے اور وہ مطاع ہے۔نیز یہ بتلائیں کہ وہ ہر ایک نئے یا پرانے احمدی سے بیعت لے گا یا صرف اُس کی جو آئندہ احمدی ہوگا۔وغیرہ؟ ہم سب نے بالا تفاق یہ کہا کہ خلیفہ مطاع ہوگا۔اور انجمن مطیع ہوگی اور خلیفہ کی بیعت سب نئے اور پرانے احمدیوں کو کرنی ہوگی جیسا کہ ہم سب نے جنہوں نے مسیح موعود کی بیعت کی ہوئی تھی خلیفہ اول کی بھی بیعت کی۔اُس وقت مکرم شیخ یعقوب علی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ حضرت صاحبزادہ صاحب سے کہیں کہ ہم آپ کو خلیفہ مانتے ہیں۔آپ ہماری بیعت لیں۔میں نے کہا آپ کہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے سن کر فرمایا میں اس طرح خفیہ بیعت نہیں لیتا اور نہ میں نے بیعت کے لیے آپ لوگوں کو بلایا ہے۔اب آپ جائیں اور کاغذ پنسل لے کر آنے والے لوگوں سے بھی دریافت کریں کہ خلیفہ کیسا ہونا چاہیے اور بیعت کس کو کرنی چاہیے۔چنانچہ کچھ آدمی مقرر کئے گئے اور میں نے خود بھی کاغذ پنسل لے کر بعض آنے والوں سے دریافت کیا جو چالیس پچاس کے قریب تھے۔غرض تمام آنے والے جن سے مختلف دریافت کرنے والوں نے دریافت کیا جن کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہوگی۔سب نے بالا تفاق لکھ کر دستخط کئے کہ خلیفہ مطاع ہونا چاہیے انجمن اس کی تابع ہو اور ہم سب پر خلیفہ کی بیعت ضروری ہے۔حضرت خلیفہ اول کو عشاء کے قریب غسل دے کر خوشبواور کا فور وغیرہ لگا کر رکھ دیا ہوا تھا۔مولوی محمد علی صاب کا ٹریکٹ کہ خلافت نہیں ہونی چاہیے؟ رات کے دو بجے کے قریب جبکہ میں چوہدری حاکم علی صاحب پنیار کے مکان میں سویا ہوا تھا وہاں دو تین آدمی لاہور کی جماعت سے آئے اور اُن کے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ تھا جو ان کو 9 بجے رات کی گاڑی میں )