حیاتِ بقاپوری — Page 298
حیات بقا پوری 298 ہم امید کرتے ہیں کہ آپ لوگ مندرجہ بالا سوالات کا جواب فردا فردا ہر ایک سوال درج کر کے اس کے مقابل پر تحریر فرما کر ہم مشتہران کو ارسال فرمائیں گے۔تا کہ قوم کو فتنہ سے بچانے کے لئے عام طور سے شائع کر دئے جائیں۔چونکہ کل سوالات کا اکٹھا جواب دینے سے شریروں کو مختلف معانی نکالنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔اس لئے براہ مہربانی ہر ایک سوال کا جواب الگ الگ اور صاف اور مفصل ہو۔تا یہ معاملہ ہمیشہ کیلئے طے پا جائے۔ان سوالات کے جواب میں سکوت کو قوم اس بات پر محمول کریگی کہ جواب نہ دینے والے بزرگان بھی اس ٹریکٹ کے ساتھ متفق ہیں۔اور الوصیت کے دہی معنے کرتے ہیں جو صاحب ٹریکٹ نے کئے ہیں۔اور مسئلہ خلافت سے اختلاف رکھتے ہیں۔۲۳ نومبر ۱۹۱۳ء (خلافت احمدیہ صفحہ ۳۲ ۳۳) اس کا جواب صدر انجمن نے کچھ نہ دیا سوائے اس کے کہ مولوی محمدعلی صاحب نے ایک نہایت ضروری اعلان کے نام سے ایک ٹریکٹ پوشیدہ چھپوا کر اس دن شائع کیا۔جبکہ حضرت خلیفتہ اسیح اول نے وفات پائی۔جس کا ذکر آگے آئے گا۔۔اس کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبر جو خفیہ طور پر خلافت کے خلاف تھے ظاہر ا بھی اس کے متعلق مجلس میں گفتگو کرنے لگے۔اُن کی تحریریں ”پیغام صلح میں شائع ہوتی تھیں اور انجمن انصار اللہ کی الفضل" میں۔حضرت صاجزادہ صاحب انجمن انصار اللہ کی تائید میں تھے اور کھلا کھلا ان کو خلافت کا مقام سمجھاتے تھے۔کچھ ایک دو مہینہ کے لئے بظاہر یہ فتنہ مدہم پڑ گیا۔آخر ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ اول گھوڑے سے گر کر بیمار ہو گئے۔بظا ہر مولوی صاحب کو غلطی لگی ہے کیوں کہ گھوڑے سے گرنے کا واقعہ 190 ء کا ہے۔مرتب ثانی ) اور مرکزی انجمن انصار اللہ نے اپنے ذمہ یہ ڈیوٹی لے لی کہ جہاں جہاں ممبران انصار اللہ ہیں۔اُن کو ہر روز آپ کی طبعیت سے مطلع کیا جائے۔چنانچہ ۲۷۔اگست ۱۹۱۳ء کو الفضل میں مندرجہ ذیل رپورٹ شائع ہوئی: حضرت خلیفہ اسی اول کی طبیعت اس ہفتہ علی العموم اچھی رہی۔۲۳ راگست کو عشاء کے بعد پہلی میں در درہا۔صبح سے آرام ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی فیوضات سے بہرہ ور ہونے کی توفیق بخشے “ الفضل 10 دسمبر 1913ء میں یوں ہے : ”حضرت خلیفہ المسیح اول خیر وعافیت سے ہیں۔