حیاتِ بقاپوری — Page 292
حیات بقاپوری توبہ کرلے۔اب بھی توبہ کر لیں۔ایسے لوگ اگر تو بہ نہ کریں گے تو اُن کے لیے اچھا نہ ہوگا۔“ ( بدر یکم فروری ۱۹۱۳ء صفحه ۳) 292 یہ تقریر سن کر میں واپس بقا پور چلا گیا لیکن مجھے بڑا ہی افسوس ہوا کہ انجمن جس کی حضور اقدس علیہ السلام نے یہ حیثیت رکھی تھی کہ مال کی حفاظت کرے اور صحیح طریقے پر خرچ کرے وہ خلیفہ کا مقابلہ کرتی ہے۔حالانکہ غلطی اس وجہ سے لگی ہے۔کہ ان کو شریعت کا علم نہیں۔اُن کے سامنے لادینی انجمنیں ہیں۔اس لیے یہ اپنا نمونہ اُن جیسا بنانا چاہتے ہیں۔اس پر بھی تعجب آیا کہ یہ لوگ میاں محمود ایدہ اللہ الودود سے خواہ مخواہ حسد کر رہے ہیں۔اور اس کا مجھے اس طرح علم ہوا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے ایام جلسہ میں سورة لقمان ركوع ٢ وَلَقَدْ آتَيْنَا لُ من الحِكْمَة پر وعظ فرمایا اور وہ اس قدر حقائق اور معارف سے بھرا ہوا تھا کہ میں نے کبھی ایسے معارف نہیں کئے تھے۔ہم چند دوست جوں جوں سکتے تھے خوشی سے سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے تھے۔ہمارے پاس خواجہ صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔کہنے لگے کیوں نہ ایسے معارف ہوں حضرت حکیم الامتہ کے شاگرد جو ہوئے۔مجھے غصہ آیا کہ ہم وہیں حکیم الامتہ کے درس سنتے ہیں مگر ایسے حقائق ہم نے کبھی نہیں کئے۔خدا تعالے کی قدرت جب یہ تقریر ختم ہوئی تو جھٹ حضرت خلیفتہ اسیج اول بھی صاحبزادہ صاحب کے پاس آگئے اور آپ کے کان پر انگلی رکھ کر فرمانے لگے۔میاں ہمارے ملک میں ایک کہاوت ہے اُٹھ چالی بوتہ بیتالی یعنی اونٹ کی قیمت اگر چالیس روپیہ ہو تو اس کے بچہ کی قیمت بیالیس روپیہ ہوتی ہے۔یعنی آپ کے حقائق و معارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسی شان رکھتے ہیں۔پھر مجھے مولوی صاحب فرمانے لگے کیوں مولوی صاحب میرا بھی آپ درس سکتے ہیں۔مگر اس طرح کے حقائق و معارف تو انہی کا حق ہے میں نے خواجہ صاحب کی طرف نظر کی تو انہوں نے نظر نیچی کر لی۔انجمن انصار اللہ کی ابتداء ہے۔1911ء کے اوائل میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے حضرت خلیفہ امسح اول کی اجازت سے