حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 288 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 288

حیات بقا پوری 288 الا تخلیقہ مسیح الہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یابد ری تحریر حاضر ہوکر بہت کریں۔خواجہ کمال الدین پلیڈ سیکرٹری انجمن احمدیہ ۲۔جون ۱۹۰۸ء کے بدر میں صفحہ 4 پر جو خط درج ہے اس کے فقرے بھی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں : الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على خاتم النبين محمد المصطفى وعلى عبده المسيح الموعود خاتم الاولياء۔اما بعد۔مطابق فرمان حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المهاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں اعلم واقعی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوہ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر یک پُر از نور یقین بودے سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا تھا۔اس کے نیچے معتمدین صدر انجمن و غیر ہم کے دستخط ہیں) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لینے کے بعد میں اکثر قادیان میں رہا کرتا تھا۔اپنے آبائی گاؤں باپور کبھی کبھی جایا کرتا تھا مئی ۱۹ ء جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آخری ایام میں لاہور تشریف لے گئے اتفاق ایسا ہوا کہ میں بقا پور گیا ہوا تھا۔یہ سُن کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک لیکچر لاہور میں ہونے والا ہے میں بقا پور سے روانہ ہو کر ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو بروز جمعہ لاہور پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ لیکچر ۳۱ مئی بروز