حیاتِ بقاپوری — Page 281
حیات بقاپوری 281 کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہ گار ٹھیروں۔چنانچہ ہر لڑکے کے پہلے اسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی۔اب میں کیا کروں۔غرض انسان کا اصل مدعا تو صرف یہی ہونا چاہیے کہ کسی طرح خدا کی رضامل جائے۔نه شم نه شب پرستم که حدیث خواب گویم مدار نجات صرف یہی امر ہے کہ سچا تقویٰ اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت کا حق ادا کیا جاوے۔الہامات و مکاشفات کی خواہش کرنا کمزوری ہے۔مرنے کے وقت جو چیز انسان کو لذت وہ ہوگی وہ صرف خدائے تعالیٰ کی محبت اور اس سے صفائی معاملہ اور آگے بھیجے ہوئے اعمال ہونگے۔جو ایمان صادق اور ذاتی محبت سے صادر ہوئے ہوں گے۔من كان لله كان الله له۔اصل میں جو عاشق ہوتا ہے، آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ معشوق بن جاتا ہے۔کیونکہ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی توجہ بھی اس کی طرف پھرتی ہے۔اور آخر کار ہوتے ہوتے کشش سے وہ اُس سے محبت کرنے لگتا ہے۔اور عاشق معشوق کا معشوق بن جاتا ہے۔جب جسمانی اور مجازی عشق و محبت کا یہ حال ہے کہ ایک معشوق اپنے عاشق کا عاشق بن جاتا ہے تو کیا روحانی رنگ میں جو اس سے زیادہ کامل ہے، ایسا ممکن نہیں کہ جو خدا سے محبت کرنے والا ہو ، آخر کا رخدا اس سے محبت کرنے لگے اور وہ خدا کا محبوب بن جاوے؟ مجازی معشوقوں میں تو ممکن ہے کہ معشوق کو اپنے عاشق کی محبت کا پتہ نہ لگے۔مگر وہ خدا تعالیٰ تو علیم بذات الصدور ہے۔اس سے انسان مظہر کرامات الہی اور مورد عنایات ایزدی ہو جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی چادر میں مخفی ہو جاتا ہے۔ان مکاشفات اور رویا اور الہامات کی طرف سے توجہ پھیر لو اور ان امور کی طرف تم خود بخود جرات کر کے درخواست نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ جلد بازی کرنے والے ٹھہرو۔اکثر لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا ور دو ظیفہ بتادو کہ جس سے ہمیں الہامات اور مکاشفات آنے شروع ہو جائیں۔مگر میں ان کو کہتا ہوں کہ ایسا کرنے سے انسان مشرک بن جاتا ہے۔شرک یہی نہیں کہ بتوں کی پوجا کی جائے۔بلکہ سخت شرک اور بڑا مشکل مرحلہ تو نفس کے بت کو توڑنا ہوتا ہے۔تم ذاتی محبت خرید و اور اپنے اندر وہ قلق وه سوزش وہ گداز وہ رقت پیدا کرو۔جو ایک عاشق صادق کے اندر ہوتی ہے۔دیکھو کمزور ایمان جو طمع یا خوف کے سہارے پر کھڑا ہو وہ کام نہیں آتا۔بہشت کی طمع یا دوزخ کا خوف وغیرہ امور پر اپنے ایمان کا تکیہ نہ لگاؤ۔بھلا کبھی کسی نے کوئی عاشق دیکھا ہے کہ وہ معشوق سے کہتا ہو۔کہ میں تجھ پر اس واسطے عاشق ہوں کہ تو مجھے انتظار و پیہ یا فلاں بھی دے دے۔ہر گز نہیں۔دیکھو ایسی طبعی محبت پیدا کر لو جیسے ایک ماں کو اپنے بچے سے ہوتی ہے۔ماں کو نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اپنے بچے سے کیوں محبت کرتی ہے۔اس میں ایک طبعی کشش اور ذاتی محبت ہوتی ہے۔دیکھو اگر کسی