حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 279 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 279

حیات بقاپوری 279 ۱۳۲۔اگر کے لفظ کے تعمیل بہت کم لوگ کرتے ہیں:۔ایک دفعہ میں (یعنی حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری (مرتب)) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔دوران گفتگو حضور نے فرمایا۔اگر کا لفظ دنیا میں کثرت سے بولا جاتا ہے۔لیکن جب اس کے استعمال کا وقت آتا ہے۔تو بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو اس کی تعمیل کرتے ہیں۔مثلاً ایک طالب علم جب دیکھتا ہے۔کہ استاد اس کی طرف پوری توجہ نہیں کرتا۔تو وہ کہتا ہے۔اگر میں استاد ہوا تو پوری توجہ اور تندہی سے طالب علموں کو پڑھاؤں گا۔لیکن جب وہ استاد بنتا ہے۔تو وہ اپنے شاگردوں کی طرف استاد جتنی بھی توجہ نہیں کرتا۔ایسا ہی جب ایک شخص ڈاکٹر کو دیکھتا ہے کہ وہ مریضوں کے علاج میں ہمدردی نہیں کرتا۔تو یہ کہتا ہے۔کہ اگر میں ڈاکٹر ہوا تو نہایت ہمدردی سے علاج کرونگا۔لیکن جب اسے اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بنا تا ہے۔تو وہ بھی مریضوں کے علاج میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔اسی طرح انسان جب گذشتہ نبیوں کے حالات پڑھتا ہے۔اور دیکھتا ہے کہ ان کے ہم عصر ا کثر مخالف رہ کر ایمان سے نہ صرف محروم رہے۔بلکہ طرح طرح کی انہیں ایذا ئیں پہنچانے میں بھی کوئی کم نہیں کی تو اس کے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں ان انبیاء کا زمانہ پاتا۔تو ایمان لانے میں سبقت کرتا۔اور ان کی اعانت ونصرت میں لگ کر ان کے کام میں ہاتھ بٹاتا۔مگر آج جب اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔یہی مسلمان جو پہلے بڑی بے تابی سے امام مہدی اور مسیح کی آمد کے منتظر تھے۔اور اس شوق میں تھے کہ اگر وہ ہماری زندگی میں آگیا تو ہم ان کے انصار و مددگار بن کر اس کا جھنڈا تھا میں گے۔بلکہ بعض تو مرتے وقت اپنی اولاد اور دوستوں کو وصیت بھی کر گئے کہ عنقریب وہ معبوث ہونے والا ہے۔جب وہ آئیں تو ان کی بیعت ضرور کرنا۔لیکن جب میں نے دعویٰ کیا تو انہوں نے میرے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو ان سے پہلوں نے اپنے وقت کے رسولوں کے ساتھ کیا تھا۔اور اس وقت انہوں نے اپنے اگر کا کوئی خیال نہ کیا۔“ ۱۳۳۔پاک اور بے طمع ہو کر خدا کی محبت میں ترقی کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔دیکھو! ایمان جیسی کوئی چیز نہیں۔ایمان سے عرفان کا پھل پیدا ہوتا ہے۔ایمان تو مجاہدہ اور کوشش کو چاہتا