حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 275 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 275

حیات بقا پوری ۱۲۴۔دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی:۔275 میں سچ سچ کہتا ہوں۔کہ دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی۔ہاں خدمت گار کے طور پر تو بے شک ہو سکتی ہے۔لیکن بطور شریک کے ہر گز نہیں ہو سکتی۔یہ کبھی نہیں سنا گیا۔کہ جس کا تعلق صافی اللہ تعالیٰ سے ہو وہ ٹکڑے مانگتا پھرے اللہ تعالیٰ تو اس کی اولاد پر بھی رحم کرتا ہے۔جب یہ حالت ہے۔تو پھر کیوں ایسی شرطیں لگا کر ضدین جمع کرتے ہیں۔ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں۔جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس عہد کی رعایت رکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کو طاقت دیتا ہے۔صحابہ کی حالت کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک صاف کر دیا۔حضرت عمرؓ کو دیکھو۔کہ آخر وہ اسلام میں آکر کیسے تبدیل ہوئے۔اس طرح ہمیں کیا خبر ہے۔کہ ہماری جماعت میں وہ کون سے لوگ ہیں۔جن کے ایمانی قوی ویسے ہی نشو نما پائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے کہ اگر ایسے لوگ نہ ہوں جن کے قومی نشو و نما پا کر ایک جماعت قائم کرنے والی ہوں۔تو پھر سلسلہ چل کیسے سکتا ہے۔مگر خوب یاد رکھو۔کہ جس جماعت کا قدم خدا تعالیٰ کے لئے نہیں۔اس سے کیا فائدہ؟ (احکام ۱۰ اگست ۱۹۰۵ء) ۱۲۵۔دنیا جس سے بچنا چاہیئے کیا ہے؟ انسان کو خدا تعالیٰ نے دل تدبر وتفکر کرنے کے لئے دیا ہے۔لوگ تدبر و تفکر سے کام نہیں لیتے۔اس سے دل سیاہ ہو جاتے ہیں۔جن قومی کو استعمال نہ کیا جاوے وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی جن قومی سے کام لیا جائے وہ قومی تیز ہو جاتے ہیں۔دنیا کیا ہے۔دنیا اس چیز کا نام ہے کہ دنیا کے کام کو دین پر مقدم رکھا جائے۔جب دین کو دنیا پر مقدم نہ رکھا جائے تو پھر باقی دنیا ہی رہتی ہے۔بہت سے نادان لوگ ایسے ہیں۔جنہوں نے سمجھ رکھا ہے۔کہ بیوی بچوں وغیرہ تعلقات دنیا کو چھوڑ دیا جائے۔یہ غلطی ہے۔بلکہ دنیا کو خادم دین سمجھنا چاہیے۔اور جہاں تک ہو سکے۔تقویٰ اختیار کیا جائے۔فقیر بن کر ایک گوشہ میں بیٹھ رہنا کمزوری کی نشانی ہے (الحکم کے امارچ 19ء)