حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 268 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 268

حیات بقا پوری 268 تعالیٰ نے ان میں ودیعت رکھے ہیں۔جیسے تر بد اسہال لاتی ہے یا سم الفار ہلاک کر دیتا ہے۔اب یہ قوتیں اور خواص ان چیزوں کے خود بخود نہیں ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں رکھے ہوئے ہیں۔اگر وہ نکال لے تو پھر نہ تر بدست آور ہو سکتی ہے۔اور نہ سنکھیا ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔اور نہ اسے کھا کر کوئی مرسکتا ہے۔غرض اسباب کے سلسلے کو حد اعتدال سے نہ بڑھا دے۔اور صفات وافعال الہیہ میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔تو تو حید کی روح اس میں متحقق ہوگی اور اسے موحد کہیں گے۔لاکن اگر وہ صفات و افعال الہیہ کو کسی دوسرے کیلئے تجویز کرتا ہے۔تو وہ زبان سے گو کتنا ہی تو حید ماننے کا اقرار کرے۔وہ موحد نہیں کہلا سکتا۔: خدا کے حکم و عدل نے اشعریوں اور ماتریدیوں کے اختلافات کا فیصلہ کیا ہی خوب فرمایا (مؤلف) ۱۱۰۔انسان کامل موحد کب بنتا ہے:۔(الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ء) انسان اپنی غرض یہ تو حید تب ہی پوری ہوگی۔جب اللہ تعالیٰ کو ہر طرح سے وحدہ لاشریک یقین کیا جائے اور حقیقت کو ہالکتہ الذات اور باطلتہ الحقیقت سمجھ لے کہ نہ میں اور نہ میری تدابیر اور اسباب کچھ چیز ہیں۔اس سے ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔کہ شاید ہم استعمال اسباب سے منع کرتے ہیں۔یہ میچ نہیں ہے۔ہم اسباب کے استعمال سے منع نہیں کرتے بلکہ رعایت اسباب بھی ضروری ہے۔کیونکہ انسانی بناوٹ بجائے خود اس رعایت کو چاہتی ہے۔لیکن اسباب کا استعمال اس حد تک نہ کرے۔کہ ان کو خدا کا شریک بنا دے۔بلکہ ان کو بطور خادم سمجھے۔جیسے کسی کو بٹالہ جانا ہو۔تو وہ یکہ یا ٹو کرایہ کرتا ہے۔تو اصل مقصد اس کا بٹالہ پہنچنا ہے نہ وہ ٹویا یکہ۔پس اسباب پر کبھی بھروسہ نہ کرے۔یا یہ سمجھے کہ ان اسباب میں اللہ تعالیٰ نے کچھ تا شیریں رکھی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔تو وہ تاثیریں بریکار ہو جائیں۔اور کوئی نفع نہ دیں۔(الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ء)