حیاتِ بقاپوری — Page 251
حیات بقاپوری 251 -۷۴ صدقہ کی جنس خرید کر لینا جائز ہے:۔ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں مرغیاں رکھتا ہوں اور اُن کا دسواں حصہ خدا کے نام پر دیتا ہوں۔اور گھر سے روزانہ تھوڑا تھوڑا آٹا صدقہ کے واسطے الگ کیا جاتا ہے۔کیا یہ جائز ہے۔کہ وہ چوزے اور وہ آنا خود ہی خرید کرلوں۔اور اس کی قیمت مر متعلقہ میں بھیج دوں۔فرمایا۔ایسا کرنا جائز ہے۔نوٹ : لیکن اس میں یہ خیال کر لینا چاہئیے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں اگر کوئی شخص ایسی اشیاء کو اس واسطے خود ہی خرید کرے گا کہ چونکہ خریدا اور فروخت ہر دو اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔جیسی تھوڑی قیمت سے چاہے خرید لے تو یہ اُس کے واسطے گناہ ہو گا۔۷۵۔سفر میں قصر نماز :۔( بدر ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۷ء) سوال پیش ہوا۔اگر کوئی شخص تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟ فرمایا ہاں۔مگر دیکھو اپنی نیت کو دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئیے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سیر کے لئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں۔بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے۔اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہو۔دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں۔مگر یہ سفر نہیں۔ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہیے۔اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔استفتِ قلبک (اپنے دل سے قومی لو) پر عمل چاہئیے۔ہزار فتوئی ہو۔پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شئے ہے۔عرض کیا گیا۔کہ انسان کے حالات مختلف ہیں۔بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔بعض کے لئے تین چار کوس بھی سفر ہے۔فرمایا۔شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔عرض کیا گیا۔حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں؟