حیاتِ بقاپوری — Page 218
حیات بقاپوری 218 ۱۸۷- ۲۱ نومبر ۱۹۱۳ء کو ایک اور رؤیا دیکھا کہ میں قادیان میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پاس بیٹھا ہوں ( مگر نقشہ کسی بڑے شہر کا ہے)۔میری گزارشیں حضور بڑی محبت اور دلی توجہ سے سن رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں اب میرا رہنا منظور ہورہا ہے۔پھر اسی شہر میں میں نے ایک ہندو امیر کا علاج کیا۔اسے آرام معلوم ہوتا ہے۔اور مولوی محمد علی صاحب بدوملہی نے اس کے گھر سے سات روپے لا کر مجھے دیئے۔میں نے جب انہیں ہاتھ میں لیا تو زیادہ معلوم ہوئے۔میں نے تین تین کر کے گننا شروع کیا تو دس دفعہ گئے گئے۔میں نے سمجھا کہ فی یوم روپیہ ہوا۔اس کی تعبیر اس وقت ظاہر ہوئی جب کہ مجھے ۱۹۳۲ء میں پچیس روپے پنشن دے کر فارغ کیا گیا۔تو حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جو ان دنوں ناظم تعلیم و تربیت تھے نہیں روپے الاؤنس دے کر مقامی و اعظ کی حیثیت سے مجھے دار الامان قادیان میں رکھ لیا۔۱۸۸ ۲۸ نومبر ۱۹۱۶ء بروز ہفتہ رویا میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کی زیارت ہوئی۔پھر دیکھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پاس بیٹھا ہوا ہوں اور کچھ علمی گفتگو ہورہی ہے۔اس کے بعد حضور نے مجھے اردو مدرسہ میں کوئی جگہ دینے کا ارشاد فرمایا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بارش ہو رہی ہے اور حضور اس بارش میں صرف تہہ بند باندھ کر دوڑ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پھر مجھے دودھ کا پیالہ دیا گیا۔اور میرا امتحان لینے کی خاطر ایک عربی کی کتاب بھی دی گئی تاکہ اسے پڑھ کر سناؤں۔میں نے اس کتاب کو دیکھا تو بہت آسمان معلوم ہوئی۔اور وہ مجھے خوب آتی ہے۔۱۸۹ - ۲۵ ۲۶ نومبر ۱۹۱۷ء کی درمیانی را کو بوقت سحری میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ مسیح ثانی ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لیٹے ہوئے ہیں اور خاکسار بھی حضور کے قریب لیٹا ہوا ہے اور جماعت کے بہت سے احباب بھی ہیں۔بعض ان میں سے نماز پڑھ رہے ہیں اور بعض قرآن شریف کی تلاوت کر رہے ہیں اور بعض آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ایک نو جوان مجھے چاپی کرنا چاہتا ہے۔میں اسے روک کر کہتا ہوں کہ مجھے چھوڑ ، حضور کو چاپی کر مگر وہ اس کی پرواہ نہ کر کے مجھے چاپی کرنے لگتا ہے۔تب میں جلدی سے اٹھ کر خود ہی حضور کو چاپی کرنے لگتا ہوں۔اس پر حضور اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور مسکرا مسکرا کر مجھ سے بڑی بے تکلفی سے باتیں کرتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کچھ تو میرے بڑھاپے کی وجہ سے اور کچھ مرحومہ مبارکہ کے صدمے کی وجہ سے میرا کچھ لحاظ فرماتے ہیں۔اور یہ بھی محسوس