حیاتِ بقاپوری — Page 217
حیات بقا پوری 217 ذیل بزرگان کی وفات اس سال تواریخ ذیل میں ہوئی: ہوا۔ا۔حضرت سیدہ ام ناصراحمد صاحب محرم اول حضرت خلیفہ اسی الثانی اید اللہ تعال کا وصال ۳ - جولائی ۱۹۵۸ء کو ۲۔ملک غلام محمد صاحب آف قصور صحابی۔خان صاحب منشی برکت علی صاحب۔جولائی ۱۹۵۸ء ۷۔اگست ۱۹۵۸ء مولوی رحمت علی صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا ۳۱ اگست ۱۹۵۸ء قریشی مد شفیع صاحب بھیروی ۱۶ - نومبر ۱۹۵۸ء آپ حضرت خلیفہ ایسی اول کے بھانجے اور ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔) ۱۸۵ ۲۱ مئی ۱۹۵۸ء کو میں عزیزہ امتہ حکیم صاحبہ بنت چوہدری محمد شریف صاحب کی صحت کیلئے اور عزیز چوہد ری حفیظ احمد صاحب کے کاروبار میں ترقی اور برکت کے لئے دعا کر رہا تھا۔اثناء دعا میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب عزیزہ کے مکان سے علاج کرا کے باہر نکل رہے ہیں۔اور ایسا ہی یہ بھی دیکھا کہ مولوی ابوالعطاء صاحب عزیز کے کاروبار میں بعض عطا یا دے کر ان کے مکان سے باہر نکل رہے ہیں۔میں مکان کے اندر جب داخل ہوا تو ان ہر دو صاحبان یعنی ڈاکٹر صاحب اور مولوی صاحب کی مکان کے صحن میں ملاقات ہوئی۔پھر میں ان کمروں میں جانے لگا جن میں وہ ہر دوعزیز بیٹھے ہوئے تھے۔دیکھا تو وہ دونوں خوشی خوشی باہر نکل رہے ہیں۔اور میں بھی خوش تھا کہ ان دونوں کے لئے جو میں نے دعا کی تھی وہ قبول ہوگئی۔اور وہ دونوں عزیز کامیاب ہو گئے ہیں۔یہ نظارہ رات کے پونے تین بجے دیکھا۔لله بعد میں عزیزہ امتہ الحکیم صاحبہ کا خط آیا۔جس میں قبولیت دعا کے متعلق بشارت درج تھی۔فالحمد ۱۸۶۔یکم نومبر ۱۹۹۴ء کو دیا میں دیکھا کہ میں قادیان میں گیا ہوں اور ایک شخص مجھے کہتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کو رقعہ میں رکھیں گے اور مبلغ و روپے تنخواہ ہوگی۔رقعہ کے متعلق تفہیم یہ ہوئی کہ رقعہ نویسی (یعنی پرائیویٹ سیکرٹری) کی خدمت گویا میرے سپر دہوگی۔واللہ اعلم اس سے کیا مراد ہے۔