حیاتِ بقاپوری — Page 215
حیات بقا پوری 215 شریف میں آیا ہے کہ جب مؤمن روح قبض کرنے والے فرشتوں کو دیکھتا ہے تو وہ مرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔جوں ہی میرے دل میں یہ خیال آیا تو دیکھا کہ باہر سے ایک فرشتہ متمثل ہو کر میرے سامنے آیا ہے اور آتے ہی بتایا کہ میرا نام کرم الہی ہے۔پھر میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر کہا کہ آؤ میں تمہیں وہ زمین دکھلاؤں جہاں مومن پہنچ کر مرنے کے لئے راضی ہوتا ہے۔پھر وہ چل پڑا اور میں بھی اس کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا، اور سخت اندھیراتھا۔تھوڑی دور جا کر کچھ ہلکی سی روشنی نمودار ہوئی۔پھر جوں جوں ہم آگے بڑھتے جاتے تھے روشنی تیز ہوتی جاتی تھی۔یہاں تک کہ ایسی تیز روشنی ہوگئی جیسا کہ آئینہ پر سورج کی تیز شعاعیں پڑتی ہیں۔اس طرح اس زمین میں نورانیت کی شعاعیں تیز تھیں۔وہاں پہنچ کر اس فرشتہ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور کہا کہ جب تم اس مقام پر پہنچو گے اس وقت تم مرنے پر راضی ہو گے۔پھر جب میں نے اپنے دل کی طرف دیکھا تو میرا دل شوق سے موت کیلئے راضی تھا اور میں چاہتا تھا کہ اسی وقت میری وفات ہو جائے تو بہتر ہے، کیونکہ طاعون کی موت تو مومن کے لئے شہادت ہوتی ہے۔میں اس حالت میں موت کی انتظار میں تھا کہ وہی فرشتہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندھیرے میں لے آیا۔تب میں ہوش میں آگیا۔میں نے ہوش میں آتے ہی ا پنے پاس والوں کو خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے بچالیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد میں تندرست ہو گیا۔الحمد لله! آج جب کہ ۱۹۵۸ء ہے، اور اس وقت میری عمر ۸۳ سال کی ہے، میں موت کے لئے ہمہ تن مستعد ہوں۔اب مجھے کوئی اندیشہ نہیں۔بلکہ اب تو میں اپنے پیارے مولیٰ کے حضور حاضر ہونے اور اپنے محبوب آقا سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا مشتاق ہوں۔اللهم انت ولتی في الدنيا والأخرة توفنى مسلماً و الحقني بالصالحين۔آمين -۱۷۹ ۱۲۔اپریل ۱۹۵۸ء کو طارق ٹرانسپورٹ کے مقدمہ کی کامیابی کے لئے دعا کر رہا تھا کہ آواز آئی: والسماء والطارق فتح طارق الحمد لله ۲۳۔جولائی ۱۹۵۸ء کو حضرت میاں صاحب مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ کا مکتوب گرامی موصول ہوا جس میں یہ خوش خبری درج تھی کہ: عزیز مرزا منیر احمد سلمہ نے اطلاع دی ہے کہ اس کے کیس کا فیصلہ طارق ٹرانسپورٹ کمپنی کے حق میں ہو گیا ہے۔