حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 214 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 214

حیات بقاپوری 214 پہلی جگہ رشتہ نہیں ہوا۔لیکن معاد دوسری جگہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب مدظلہ کی وساطت سے رشتہ آگیا ہے۔جس کو ہم نے منظور کر لیا ہے۔" یہ رشتہ مل عمر علی صاحب رئیس ملتان کی صاجزادی کا تھا۔احمدالله کہ آج ۲۵ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو سید نا حضرت خلیفه مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا نکاح پڑھا۔بارک الله لهم ۱۷۷ ۹ جنوری ۱۹۵۸ء کا واقعہ ہے کہ میں انفلوئنزا میں مبتلا تھا کہ کچھ گھبراہٹ کے کلمات منہ سے نکلے، ہو میں خدا تعالیٰ کے پاس جانے کیلئے تیار تھا۔اتنے میں اونگھ آگئی۔غنودگی میں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوتا ہوں۔اور ایسا نظر آتا ہے جیسے پہاڑ میں سرنگیں ہوتی ہیں۔اسی قسم کی ایک سرنگ ہے جس کے باہر کے سرے پر میں ہوں، اور اندر اللہ تعالیٰ جل شانہ سفید لباس شاہانہ میں ملبوس نورانی منبر پر جلوہ افروز ہیں۔میرے گھبراہٹ کے کلمات سن کر فرماتے ہیں: نہ گھبرا میں تیرا رب غفور رحیم ہوں یہ سن کر میری آنکھ کھل گئی۔تو گھبراہٹ دور ہو چکی تھی اور طبیعت میں بشاشت پیدا ہو گئی تھی۔فالحمد لله! ۱۷۸۔اسی طرح اپریل 1911ء کا بھی ایک واقعہ ہے۔جب کہ میں چک ۹۹ شمالی سرگودھا میں تھا کہ وہاں سخت طاعون پڑی اور مجھے بھی طاعون ہو گئی۔جس سے میں دو دن تک بیہوش رہا۔میری طاعون کی خبر سن کر وہاں کے غیر احمدی لوگ میری موت کیلئے اپنی مسجدوں میں دعائیں کرنے لگے۔جس سے جماعت کو بہت صدمہ ہوا۔دوستوں کا بیان ہے کہ جب ہم آپ کی عیادت کو آتے اور آپ کا حال دریافت کرتے تو آپ بیہوشی میں ہی کہہ دیتے: اللہ تعالی کا فضل ہے۔اچھا ہوں دو دن تک میں بے ہوش رہا۔تیسرے دن جب ہوش آنے لگی تو ہوش آنے سے ذرا پہلے میں نے مندرجہ ذیل خواب دیکھا : دیکھتا ہوں کہ میری موت کا وقت آگیا ہے اور ملک الموت آتا ہوا دکھائی دیا۔مگر میری حالت یہ تھی کہ میں مرنے پر راضی نہیں تھا۔تب میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ میرے ایمان کی کمزورری ہے کیونکہ حدیث