حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 213 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 213

حیات بقاپوری 213 ہیں۔خواب میں یہ معلوم ہوا کہ مرغے تو رات کے وقت لائے گئے تھے، مگر حضور جب گفتگو فرمارہے تھے تو اس وقت دن چڑھا ہوا تھا اور روشنی اس قدر تیز تھی کہ در و دیوار بہت روشن نظر آ رہے تھے۔اور میں حضور کی گفتگو کے دوران میں دخل اس واسطے دے رہا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ ان مرغوں کا ذکر مولوی ابوالعطاء صاحب سے پہلے میں نے حضور سے کیا ہوا تھا۔اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ تو کڑوے ہیں۔۱۷۴ ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو میں نے مولوی محمد حسین صاحب کے ایک اہم کام کے لئے دعا کی تو دعا میں میری زبان سے یہ الفاظ نکلے: اے رب ان کی لج نہ ٹوٹے پھر میں نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی جو بڑی پگڑی والا ہے وہ لمبے لمبے رسوں کو ، جو حج کی طرح ہیں ہلاتا ہے اور کہتا ہے، کہ نہیں ٹوٹے گی۔صبح ان کو بتلایا گیا اس کے بعد جلد ہی ان کا وہ اہم کام نہایت عمدگی سے بفضلہ تعالی سرانجام پا گیا۔فالحمد لله! ۱۷۵ ۱۱۱۰ نومبر ۱۹۵۷ء کی درمیانی رات جب میری آنکھ کھلی تو زور سے میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے تھے: وَلَنُخْرِ جَنَّهُمَ مِنْهَا أَذِلَّةٌ وهُمْ صَاغِرُونَ اسی طرح کی حالت کئی بار ہوئی اور تقریباً ساری رات ہی اس طرح معاملہ ہوتا رہا۔یہ کوٹھی ۱۰۲۔ڈی ماڈل ٹاؤن کے متعلق ہے کہ میر صاحب وہاں سے ذلت سے نکالے جائیں گے۔(اور ایسا ہی ہوا۔مرتب) ۱۷۶ - ۱۹ نومبر ۱۹۵۷ ء کو قاضی منصور احمد ابن قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے۔کینٹ صدر شعبہ نفسیات کراچی یونیورسٹی کے رشتہ کے متعلق دعا کی گئی۔تو دیکھا کہ قاضی منصور احمد کا نکاح ہو گیا ہے اور وہ اپنی بیوی کے ہمراہ بازار میں ہے۔بازار امرتسر کی طرح تنگ مگر بارونق ہے۔دونوں خوش و خرم ہیں۔سادے کپڑے، جسم دہلے، بچوں کی طرح جلدی جلدی چلتے ہیں۔چنانچہ ۲۔دسمبر کو قاضی محمد اسلم صاحب کا خط آیا کہ: