حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 212 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 212

حیات بقا پوری 212 ۱۷۰ ۱۷ ستمبر ۱۹۵۷ء کو میں مکرم صاحبزادہ منصور احمد صاحب کے کلیم اور طارق ٹرانسپورٹ کی منظوری اور کامیابی کے لئے دعا کر رہا تھا تو زبان پر جاری ہوا: جند ما هنالك مهزوم من الاحزاب اسی وقت ہر دو صاجزادگان صاحبان کو اطلاع کر دی گئی کہ انشاء اللہ آپ کے مقابلہ میں تمام مخالفین شکست کھا جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔فالحمد للہ ۱۷۱۔یکم ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۷ء کی درمیانی رات کو قریباً ۱۲ بجے دیکھا۔عشاء کا وقت ہے کہ ہم قادیان گئے ہیں۔اندھیری راتیں ہیں۔میں مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھ کر دروازے کے ساتھ کھڑا ہوں اور کہتا ہوں، یا مجھے آواز آئی ہے: د تین جون یعنی آج کی تاریخ جو ہم قادیان میں آئے ہیں تین جون ہے۔اور بغیر کسی شور اور غوغا کے آئے ہیں۔۱۷۲۔ایضا ! قادیان کے متعلق ۱۹۵۶ء میں بھی مجھے القاء ہوا تھا۔غلبة الروم فى ادنى الارض و هم من بعد غلبهم سيغلبون۔۔۔۔۔يومئذ يفرح المومنون تفہیم یہ ہوئی کہ قادیان ہمارے قبضہ میں آئے گا۔۱۷۳ ۷ اکتوبر 1906ء کو جب بوقت سحری بعد نماز تہجد میں لیٹا تو دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے مکان سے باہر تشریف لائے ہیں، اور مولوی ابو العطا صاحب سے (جن کے ساتھ دو تین انکے رشتہ دار بھی ہیں ) مخاطب ہو کر فرمایا، کہ قادیان سے جو مرنے آئے ہیں ان کا گوشت کچھ کڑوا تھا۔میں حضور کی اس گفتگو کے درمیان کچھ بولنے لگا تو حضور انور نے یہ فرما کر کہ میری بات پہلے سن لو مجھے خاموش کر دیا۔پھر حضور مولوی صاحب ابو العطاء سے فرمانے لگے کہ میں ان مرفحے لانے والوں سے یہ پوچھنا بھول گیا ہوں کہ تم کس گاڑی پر آئے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قادیان بفضلہ تعالیٰ ہمارے قبضہ میں ہے اور قادیان سے کم از کم دو تین گاڑیاں آتی