حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 128 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 128

حیات بقاپوری 128 سال تک بند رہی۔اور اس کے بعد جو وحی ہوئی وہ یا ایھا المدثر تھی اور اس کے بعد پے در پے وحی آنی شروع ہوئی۔لہذا پہلی وحی اقراء کو شفی کے حکم میں رکھا۔اسی طرح اختتام کی مثال بھی سمجھ لو۔کہ نبی کریم صلعم کو ہی خاتم انهمین قرار دیا گیا۔مگر ایک نبی کا آنا باعث ایک، اور وہ بھی بعد زمانہ نبوی اور متبع ہونے کے، اختتام کا ناقض اور منافی نہیں سمجھا گیا۔اور دوسری غلطی آپ لوگوں کو یہ گی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلعم کو آپ لوگ ایک ہی طرح کا خاتم مانتے ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ وہ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل اور بعثت نبی کریم صلعم تک ہیں۔اور جناب سرور کائنات صلح جميع مخلوقات اور جمیع از منہ کے لئے خاتم بنائے گئے۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو اگر خاتم ہو کر صرف یہود پر غضب اللہ بعثت محمد یہ تک لائے تو محمد رسول اللہ صلعم نے نعوذ باللہ جمیع مخلوقات الہی پر قیامت تک غضب الہی کا نشان دیا۔نعوذ باللہ من ذالک۔مگر یہ بات نہیں، بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام اور وجہ سے خاتم بنائے گئے ہیں اور جناب محمد رسول اللہ صلعم اور وجہ سے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے معلون ہونے کی وجہ سے خاتم بنایا گیا۔اور نبی کریم صلعم اپنی فضیلت اور کمال کی وجہ سے خاتم ٹھہرے۔کیونکہ قرآن کریم میں لفظ خاتم النبیین مقام مدح میں واقع ہے۔اور حدیث میں بھی جملہ ختم بی النبیون (مشکوۃ) اور فضلت بست یعنی چھ باتوں میں مجھے فضیلت دی ہے آیا ہے۔بخلاف حضرت عیسی علیہ السلام کے کہ وہ غضباً على اليهود بنائے گئے۔جب دونوں خاتموں کا باعث ختم الگ ہے تو ضروری ہوا کہ نتیجہ بھی ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ ہو۔پس غضب الہی یہودیوں پر نبوت کو روکتا ہے۔اور فضل الہی محمد رسول اللہ مسلم کی اُمت پر نبوت کا جاذب اور جاری رکھنے والا ہے۔اسی واسطے آیت واخرين منهم لما يلحقوا بهم کے بعد ذالک فضل اللہ فرمایا ہے۔(سورۃ جمعہ ) چونکہ آپ نے خاتم کے معنے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال کے کئے ہیں، لغت اور عقل کے بر خلاف لکھے ہیں، جس سے ممکن ہے کہ قرآن کریم اور حدیث شریف کے یہ بیان کردہ معانی بھی آپ عقل ولغت کے خلاف سمجھیں گے۔لہذا آپ کی عقل کا تو بندہ ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ آپ خود حکیم ہیں۔مگر لغت کا حوالہ دے کر پھر متوجہ کرتا ہوں ک مسیح موعود علیہ السلام کے معانی ہی صحیح ثابت ہوتے ہیں۔غضب کی مثال فلان ختم علیک بابه ای اعرض عنک اور فضل کی مثال ختم لک بابه اذا اترک علی غیرک (لسان العرب) آپ ختم کے معنی آخر کے کرتے ہیں۔پھر آخر کے معنے بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آتے۔کیونکہ اس کا ثبوت