حیاتِ بقاپوری — Page 127
حیات بقاپوری 127 محمد ابا احد من رجالكم و لكن رسول الله و خاتم النبيين (۴۱:۳۳)۔دیکھئے جملہ خاتم النبيين حرف لكن کے بعد واقع ہوا ہے۔اور اس سے پہلے جملہ منفیہ ہے جوابوت محمد رسول اللہ صلم کی ہر طرح سے نفی کرتا ہے۔اب اگر خاتم النہین کے معنے غیر احمدیوں کی طرح یہ کئے جائیں کہ آپ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں آنا۔تو یہ دونوں جملے متفائر نہیں رہیں گے۔کیونکہ حرف لکن سے پہلے جو جملہ ہے وہ بھی ابوت روحانی وجسمانی کی نفی کرتا ہے۔اور مابعد کا جملہ بھی اس صورت میں اس کی ہی تائید کریگا۔حالانکہ حرف نکن دومتفائر جملوں میں آیا کرتا ہے۔سے لكن للاستدراك اى لرفع التوهم الناشى من الكلام السابق ولهذا لا تقع الابين الجملتين تكونان متغاثرین با لمفهوم شرح مائة عامل يعنى لكن استدراک کے لئے ہوتا ہے۔یعنی اس و ہم کو رفع کرتا ہے جو پہلے کلام سے پیدا ہو۔سو یہ دو ایسے جملوں میں آتا ہے جو مفہوم متفائر ہوں۔اب میں علماء کرام کی تحقیق جو خاتم النبیین کے متعلق ہے وہ بھی نقل کرتا ہوں:۔ان الدنيا لما كان لها بدء ونهاية و هو ختمها قضى الله سبحانه ان يكون جميع ما فيها بحسب نعمتها بدء و ختام و كان من جملة ما فيها تنزيل الشرائع فختم الله هذا لتنزيل بشرع محمّد فكان خاتم النبيّن و كان الله بكل شيء عليما۔فان الرسالة و النبوة بالتشريع قد انقطعت فلارسول بعده و لا نبی اے لا مشرع ولا شريعة و ان عيسى اذا نزل ما يحكم الا بشريعة محمد و هو خاتم الاولياء فانه من شرف محمد ان ختم الله ولاية امة والولاية مطلقة بنبي الرسول مكرم فلا ولى بعده إلا وهو راجع اليه كما انه لا نبى بعد محمد صلعم الا وهو راجع اليه كعيسى قسبة كل ولى بعد هذا الختم إلى يوم القيامة نسبة كل نبي يكون بعد محمد صلعم في النبوة كعيسى عليه السلام في هذه الامة۔(فتوحات مکیہ) بیہ وہ بزرگ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام وفات پاگئے اور اُن کا آنا بروزی رنگ میں ہوگا۔اب آپ جیسے عالم کو باوجود احمدی کہلانے کے دو فاش غلطیاں لگی ہیں، جن میں غیر احمدی مبتلا ہیں (مگر چونکہ وہ مسیح ناصری کو فوت شدہ نہیں مانتے۔اس واسطے آپ کا عقیدہ کسی فرقہ اہل اسلام کے ساتھ مسیح موعود کی نبوت میں متفق نہیں۔اور یہ کہ آپ بدایت و اختتام کو امور اضافیہ نہیں سمجھتے حالانکہ یہ اکثر دفعہ کثرت کی طرف منسوب اور مضاف ہوتے ہیں۔مثلاً ایک حدیث میں ای القرآن انزل او لا فقال يا ايها المدثر اور دوسری میں اقر أباسم ربک الذی خلق آیا ہے۔اور یہ دونوں حدیثیں صحیح بخاری کی ہیں۔لیکن چونکہ وحی، اقرا کے بعد تین