حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 114 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 114

حیات بقاپوری 114 یہ تو حق حاصل ہے کہ ہماری تعلیم کے متعلق کوئی اعتراض یا ہمارے اعمال پر تنقید کرو۔لیکن بلا وجہ جھوٹا کہنا مناسب نہیں۔اس پر ان میں سے ایک شخص کہنے لگا، کہ اگر تم نمازیں پڑھتے ، روزہ رکھتے یا چندہ دیتے ہو تو بے شک یہ نیک کام ہیں۔یہ تو ہم بھی پہلے ہی سے کرتے ہیں۔ہم بھی نمازیں پڑھتے ، روزے رکھتے اور چندے دیتے ہیں۔تو پھر مرزا صاحب کو ماننے کی ہمیں کیا ضرورت ہے؟ میں نے کہا، آپ کے علماء خود مانتے ہیں کہ ہماری نمازیں لے اور ہمارے روزے رسمی ہیں۔ان میں نہ کوئی اخلاص ہے اور نہ روحانیت۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اخلاص کا اثر اعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔لیکن تمہارے کاموں میں استقامت نہیں۔عزم اور استقلال نہیں۔قربانی اور ایثار کا سچا جذ بہ نہیں پایا جاتا۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبعین کی تو یہ علامت ہے کہ وہ جان تک دے دیتے ہیں لیکن شریعت اسلامیہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔مگر تمہاری حالت تو اس کے برعکس ہے۔دیکھو! ہماری حالت یہ ہے کہ آپ ہمیں گالیاں بھی دیتے ہیں۔کفر کے فتوے لگا لگا کر ہمیں ہر طرح کی تکالیف بھی پہنچاتے ہیں۔مگر ہم ان مصائب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اور آپ کے لئے بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سیدھا راستہ دکھائے۔اس پر ان میں سے ایک شخص کہنے لگا۔کہ نماز، روزہ اور شریعت کے امور تو تم ہم سے بھی اچھی طرح ادا کرتے ہو۔دیکھو! یہ ہمارا بھائی چوہدری محمد حسین بہت نیک آدمی ہے۔شریعت کے تمام امور کا پابند ہے۔ہم جب کبھی شہر سیالکوٹ میں اپنے کسی کام کے لئے جاتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور روٹی کھلاتے ہیں۔اور پھر ہمارے دفتری کاموں میں ہماری مدد بھی کرتے ہیں۔اور ہر ایک سے نیک سلوک کرتے ہیں۔تب میں نے کہا، تو پھر تمہیں بیعت کرنے میں کیا روک ہے۔تو کہنے لگا، کہ امام مہدی نے تو سیدوں میں سے آنا تھا اور عرب میں پیدا ہونا تھا۔اس پر میں نے کہا۔اے میرے زمیندار مسلمان بھائیو! یہی اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کیا گیا تھا۔کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ آنے والا نبی بنی اسرائیل میں سے ہوگا۔اور شام کے ملک میں پیدا ہوگا۔لہذا ان باتوں سے آپ دھو کہ میں نہ پڑیں۔بلکہ یہ دیکھیں کہ جس طرف آپ جانا چاہتے ہیں ، اس طرف یہ شخص لے جاتا ہے یا نہیں۔ان باتوں کے بعد جب میں اٹھا تو دوسعید روحوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر لی۔لے اقبال مرحوم کہتے ہیں: مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے اور مولانا ابوالکلام آزاد اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اعمال کی صورتیں مسخ نہیں ہوئی ہیں، مگر حقیقت غارت ہو گئی ہے۔قومی تنزل کے معنی یہی