حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 362 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 362

حیات بقاپوری تحریر فرماتے ہیں: محترم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمد یہ ربوہ 362 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے صحابہ میں وہی رنگ دیانت اور امانت کا پیدا کرنا چاہتے تھے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں تھا۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔تو ہمیں ثابت ہو جاتا ہے کہ حضور علیہ السلام اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔ان بزرگوں کی دیانت اور ذمہ داری کے احساس کے بیسیوں واقعات ہم روزانہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔مجھے آج سے کئی سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔میں نظارت تعلیم و تربیت میں کام کیا کرتا تھا۔حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری واعظ مقامی تھے۔اور بڑی محنت اخلاص اور اپنے اعلیٰ نمونہ سے اس خدمت کو سرانجام دیتے تھے۔انسپکٹر تعلیم کا یہ کام تھا کہ وہ تربیت سے متعلق خط و کتابت کا جواب دیا کرتے۔ایک دفعہ وہ باہر چلے گئے۔تو یہ خدمت بھی حضرت مولانا بقا پوری کے سپرد ہوئی۔اس میں سے ایک خط مبلغ مغربی افریقہ حکیم فضل الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کا نکالا اور مجھے بتایا کہ یہ خط اڑہائی ماہ سے آیا ہوا ہے۔ایک استفتاء ہے۔جس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہے۔عید کی تقریب پر اس کی ضرورت آئیگی۔کیونکہ اس موقعہ پر وہاں ایک ایسی رسم عمل میں آتی ہے۔جسے محترم حکیم صاحب خلاف شریعت خیال کرتے ہیں۔اور مرکز سے رہنمائی چاہتے ہیں۔عید میں صرف چند دن باقی تھے۔میں نے حساب کر کے مولانا کو بتایا کہ اگر جواب اس ڈاک سے چلا جائے تو بروقت مل سکتا ہے۔ورنہ نہیں۔ڈاک جانے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے۔اور ابھی مفتی سلسلہ سے مشورہ لینا تھا۔حضرت مولانا نے فرمایا۔کہ اگر ان کو بر وقت جواب نہ دیا گیا۔اور کوئی کام اب خلاف شریعت ہوا۔تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہوگی۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔مولانا فورا چٹھی لے کر اٹھے اور آدھ پون گھنٹے کے بعد خوشی خوشی واپس آگئے۔اور فرمایا کہ میں مفتی صاحب سے فتویٰ لے آیا ہوں۔مفتی صاحب ( حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب) کو میں نے ڈھونڈ نکالا۔جس جگہ ملے اسی جگہ بیٹھ کر ہم نے یہ کام مکمل کر لیا۔چنانچہ وہ فتویٰ افریقہ کیلئے بر وقت پوسٹ کر دیا گیا۔اور وہاں بھی وقت پر پہنچ گیا۔اور اسی کے مطابق عمل ہوا۔جس کے نتیجہ میں ایک ایسا کام جو خلاف شریعت تھا۔اور سال ہا سال سے مسلمان کہلانے والے اسے کر رہے تھے اس کا خاتمہ ہوا۔