حیاتِ بقاپوری — Page 313
حیات بقا پوری 313 میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی بچی غلامی میں نبی پیدا ہوسکتا ہے۔یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اور خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے۔جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی میں کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعمال کی اقتدا کرو۔وہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا اجماع جو ہوا۔وہ وہی خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی ، جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی۔یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہل اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس منہاج نبوۃ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کے موافق بھیجا۔اور انکی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔حضرت خلیفہ اسح مولانا مولوی نورالدین صاحب ( اُن کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو۔اللہ تعالے کروڑوں کرور رحمتیں اور برکتیں اُن پر نازل کرے۔جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اُن کے دل میں بھری ہوئی اور رگ و ریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قرب میں آپ کو اکٹھا کرے۔اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے اور ہم سب نے اُسی عقیدہ کے ساتھ اُن کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔پس جب تک سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔اس وقت جو تم نے پکار پکار کر کہا ہے کہ میں تمہارے آگے اپنے عقیدہ کا اظہار کروں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں