حیاتِ بقاپوری — Page 299
حیات بقاپوری 299 ۱۴۔جنوری ۱۹۱۴ء میں یوں ہے : ایوان خلافت۔حضرت خلیفہ امسح اول نے درس میں حاضرین کو مخاطب کر : " کے فرمایا: نصیحت گوش کن جاناں که از جاں دوست تر دارند جوانان سعادت مند سرہند پیر دانا را پیر تو میں ہوں ہی اور اب تو یہ حال ہے کہ بہت رات گذرے پیشاب کے لئے اٹھا تو سینہ کے بل دھڑام سے گر پڑا۔میرے مولا ہی نے میری حفاظت کی اور اُسی نے مجھے طاقت بخشی اور میں بہت دیر کے بعد زمین سے اٹھنے کے قابل ہوا پھر ابھی مجھے تے ہو چکی ہے۔اس حالت میں بھی تمہیں قرآن سنانے کے لئے روز آتا ہوں یعنی مسجد اقصیٰ میں آتا ہوں۔قدر کرو یعنی عمل کرو۔اور غنیمت سمجھو۔دانا اس لئے ہوں کہ قرآن خوب سمجھتا ہوں۔۔یہاں کچھ چوریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔میں نے اپنے مولا سے دعا کی۔کہ اگر کوئی احمدی چور ہے۔تو پھر افسوس ہے اُس پر بھی اور مجھ پر بھی اور میری تعلیم پر بھی۔مجھے اپنے کرم سے آگاہ کر دے کہ چور کن میں سے ہے۔الحمدللہ کہ آج ان چیزوں کے چور عجیب طور پر خود بخود حاضر ہو گئے اور وہ دونوں چور غیر احمدی ہیں۔“ الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۱۸ میں مذکور ہے: ایوان خلافت: حضرت خلیفہ مسیح کی طبیعت اب خدا کے فضل سے نسبتا اچھی ہے۔صنعف بہت رہا۔کیونکہ ایک دانت نکلوایا تھا۔مسوڑھے پر ورم ہو گیا اُسے بھی چیرا دیا گیا۔۱۷۔جنوری ۱۹۱۴ء کو پیر منظور محمد صاحب نے صحن میں درس قرآن مجید و بخاری شریف دیا۔الفضل ۲۸ - جنوری: حضرت خلیفہ امسیح کی طبیعت اس ہفتے علی العموم تا ساز رہی۔کھانسی کی شکایت ہے اور ضعف بہت ہے۔الفضل 11۔فروری: حضرت خلیفتہ اسی کی طبیعت اس ہفتہ علیل رہی۔خفیف حرارت ہے۔ضعف بھی بہت ہے۔الفضل ۴ مارچ: اس ہفتہ حضرت خلیفہ مسیح کی طبیعت بدستور علیل رہی۔ضعف بھی بہت ہے۔حرارت بھی ہو