حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 269 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 269

حیات بقاپوری ا۔مقام توحید : 269 اسی طرح پر بہت سے لوگ ہیں جو شرک اور توحید میں فرق نہیں کر سکتے۔ایسے افعال اور اعمال ان سے سرزد ہوتے ہیں یا وہ اس قسم کے اعتقادات رکھتے ہیں۔جن میں صاف طور پر شرک پایا جاتا ہے۔مثلاً کہہ دیتے ہیں۔کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا۔تو ہم ہلاک ہو جاتے۔یا فلاں کام درست نہ ہوتا۔پس انسان کو چاہیے۔کہ اسباب کے سلسلہ کو حد اعتدال سے نہ بڑھا دے۔اور صفات اور افعال الہیہ میں کسی کو شریک نہ کرئے"۔(الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۵۷ء) ۱۱۲۔اس زمانہ میں بت پرستی نہیں بلکہ اسباب پرستی ہے:۔یہ زمانہ اب اس قسم کی بت پرستی کا نہیں ہے۔بلکہ اسباب پرستی کا ہے۔اگر کوئی بالکل ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ رہے۔اور سست ہو جاوے۔تو اس پر خدا کی لعنت ہوتی ہے۔لیکن جو اسباب کو خدا بنالیتا ہے۔وہ بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یورپ دو شرکوں میں مبتلا ہے۔ایک مردہ کی پرستش کر رہا ہے۔اور جو اس سے بچے ہیں اور مذہب سے آزاد ہو گئے ہیں۔وہ اسباب کی پرستش کر رہے ہیں۔اور اس طرح پر یہ اسباب پرستی مرض دق کی طرح لگی ہوئی ہے۔اور یورپ کی تقلید نے اس ملک کے نوجوانوں کو اور نو تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی ایسی مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔وہ اب سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسلام سے باہر جارہے ہیں۔اور خدا پرستی کو چھوڑ کر اسباب پرستی کے دق میں مبتلا ہورہے ہیں۔یہ دق دور نہیں ہو سکتی اور اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا جب تک انسان میں خُدا کی ایک نالی نہ ہو۔جو اللہ تعالیٰ کے فیض اور اثر کو اس تک پہنچاتی ہے۔اور یہ نالی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان ایک منکسر النفس ہو جاوے۔اور اپنی ہستی کو بالکل فانی سمجھ لے۔جس کو فتا نظری کہتے ہیں۔(الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ء) ۱۱۳ حقیقی تو حید اسلام ہی کی ہے:۔فرمایا ” تو حید اسلام ہی کی تو حید ہے۔اسلام سکھلاتا ہے۔کہ جو زہر یلے اثرات انسان کے اندر جا کر خطرناک امراض کا باعث ہو جاتے ہیں۔وہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پلتے اور اثر پذیر ہوتے ہیں۔بغیر اذن الہی کوئی ذرہ اثر نہیں کر سکتا۔لہذا خدا تعالٰی کے آگے تضرع و زاری کرنی چاہئیے کہ وہ زہر یلے ذرات و مواد کے اثر سے محفوظ